اسلام آباد سے واپسی پر ایرانی مذاکرات کاروں کو قتل کرنے کی اسرائیلی کوشش ناکام رہی، نیویارک ٹائمز
جنگ شروع ہونے کے بعد قالیباف اور عراقچی ہٹ لسٹ پر تھے
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد ٹاکس کے بعد واپسی کے سفر میں باقر قالیباف سمیت ایرانی مذاکرات کاروں کو قتل کرنے کی اسرائیلی کوشش ناکام ہو گئی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حکام نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو بالواسطہ طور پر خبردار کیا تھا کہ اسرائیل انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے، جب وہ واشنگٹن کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات میں مصروف تھے۔
موجودہ اور سابق امریکی حکام کےحوالے سے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض امریکی حکام کا خیال تھا کہ اسرائیل 8 اپریل کے جنگ بندی معاہدے کے چند ہفتوں بعد اعلیٰ ایرانی مذاکرات کاروں کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا سکتا ہے۔
ان خدشات کے پیش نظر، امریکی حکام نے خطے کے اپنے ہم منصبوں سے کہا کہ وہ تہران کو خبردار کریں کہ اسرائیل ان دونوں افراد کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ٹائمز کے حوالے سے بیان کیے گئے حکام کا کہنا ہے کہ جب فروری 28 کو جنگ شروع ہوئی اور اسرائیل ایران کی اعلیٰ قیادت کے رہنماؤں کو قتل کرتا جا رہا تھا، تو اس وقت عراقچی اور قالیباف دونوں اہم اہداف تھے۔لیکن پھر جنگ بندی کا اعلان ہو گیا اور ان دونوں کو مذاکرات میں ایران کی نمائندگی کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہیں قتل کرنے کی کوئی بھی کوشش مذاکرات کو ناکام بنا دے گی اور نئی لڑائی کا باعث بن سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف کے خلاف اسرائیلی خطرے کی ایک ٹھوس اطلاع اُس وقت سامنے آئی جب وہ 12 اپریل کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ بات چیت کے بعد اسلام آباد سے تہران واپس جا رہے تھے۔
دو امریکی حکام نے ٹائمز کو بتایا کہ ایرانی سیکیورٹی فورسز نے قالیباف کے طیارے کو خبردار کیا کہ اسرائیل طیارے پر حملے کا منصوبہ بنا رہا ہے، اور دو اسرائیلی جنگی طیارے عراق سے ایران کی فضائی حدود میں داخل ہو چکے ہیں۔ طیارہ ایمرجنسی لینڈنگ کر کے مشہد (شمال مشرقی ایران) میں اتر گیا، اور قالیباف سمیت وفد زمینی راستے سے تہران واپس آیا۔
قبل ازیں مارچ میں، ایک پاکستانی اہلکار نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ پاکستان کی امریکہ سے درخواست پر اسرائیل نے عراقچی اور قالیباف دونوں کو اپنی ہٹ لسٹ سے نکال دیا تھا۔
اس وقت پاکستانی اہلکار نے کہا تھا کہ اسلام آباد نے واشنگٹن کو وارننگ دی تھی کہ اگر ان دونوں میں سے کسی کو بھی ہلاک کیا گیا تو “بات چیت کرنے کے لیے کوئی اور باقی نہیں رہے گا”۔ اس لیے امریکہ نے اسرائیلیوں سے پیچھے ہٹنے کا کہا۔