پاکستان میں ہائیڈروجن گاڑیوں کا آغاز
پاکستان میں بھی درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی اپنانے کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔مقررین
لاہور: پاکستان میں متبادل توانائی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں نپون ایچ ای وی (NIPPON HEV) نے جدید جاپانی ہائیڈروجن ٹیکنالوجی پر مبنی گاڑیاں، موٹر سائیکلیں اور بیٹری سسٹمز متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
لاہور میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں سابق وفاقی وزیر اور صنعتکار ایس ایم منیر نے منصوبے کا افتتاح کیا۔ تقریب میں پاکستان اور جاپان سے کمپنی کے نمائندوں، بینکاری شعبے کے عہدیداروں، صنعتکاروں، سرمایہ کاروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ دنیا تیزی سے ماحول دوست اور متبادل توانائی پر مبنی ٹرانسپورٹ کی جانب بڑھ رہی ہے، جبکہ پاکستان میں بھی درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی اپنانے کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق نپون ایچ ای وی پاکستان میں ہائیڈروجن پر چلنے والی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، جدید لیتھیم بیٹری ٹیکنالوجی اور انرجی اسٹوریج سسٹمز متعارف کرا رہی ہے، جن کا مقصد محفوظ، کم خرچ اور ماحول دوست سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایم منیر نے کہا کہ جدید ہائیڈروجن ٹیکنالوجی کا پاکستان میں تعارف توانائی کے شعبے اور ملکی معیشت کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے منصوبے درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی، زرمبادلہ کے تحفظ اور صنعتی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
نپون جاپان کے گروپ چیف آپریٹنگ آفیسر حارث خان نے کہا کہ کمپنی پاکستان کو طویل المدتی شراکت دار سمجھتی ہے اور مستقبل میں تحقیق، تربیت، سرمایہ کاری اور جدید گرین موبیلٹی ٹیکنالوجی کے فروغ پر توجہ دے گی۔
نپون پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیپٹن (ر) عامر رضا زیدی نے بتایا کہ کمپنی صرف گاڑیوں کی فروخت تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ہائیڈروجن موبیلٹی، جدید بیٹری سسٹمز، تکنیکی معاونت، تربیتی مراکز اور بعد از فروخت خدمات پر مشتمل ایک جامع نظام بھی قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
تقریب میں یو بی ایل کے گروپ ہیڈ چوہدری قیصر اقبال نے بھی ماحول دوست توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کے منصوبوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مالیاتی اداروں کو ایسے منصوبوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو قومی معیشت، سرمایہ کاری اور پائیدار ترقی میں کردار ادا کریں۔
تقریب کے اختتام پر مقررین نے اس امید کا اظہار کیا کہ جدید ہائیڈروجن اور کلین انرجی ٹیکنالوجی مستقبل میں پاکستان کے ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبے میں اہم تبدیلی لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ مقامی صنعت، روزگار اور تکنیکی مہارتوں کے فروغ میں بھی اس سے فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
اگر یہ خبر آپ کی نیوز ویب سائٹ کے لیے ہے تو میں اس کے ساتھ 60 حروف کی سرخی، اردو میٹا ڈسکرپشن، SEO Title، Keywords اور Trending Hashtags بھی تیار کر سکتا ہوں۔