سندھ کے سرکاری اسکولوں میں داخلوں کا نظام ڈیجیٹلائز کرنےکا فیصلہ
ب فارم سے منسلک منفرد شناخت، داخلہ و تعلیمی ریکارڈ ڈیجیٹل پروفائل میں محفوظ ہوگا
فائل فوٹو
سندھ حکومت نے سرکاری اور سرکاری معاونت سے چلنے والے اسکولوں میں طلبہ کے داخلہ نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت ہر طالب علم کے لیے ب فارم سے منسلک منفرد داخلہ شناخت متعارف کرائی جائے گی۔
وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ نادرا کے تعاون سے داخلوں، حاضری اور طلبہ کے ریکارڈ کا مربوط ڈیجیٹل نظام قائم کیا جائے گا تاکہ ہر طالب علم کا درست، شفاف اور قابلِ اعتماد تعلیمی ریکارڈ محفوظ بنایا جا سکے۔
انہوں نے کراچی میں نادرا حکام کے ساتھ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ہر طالب علم کے لیے ب فارم سے منسلک ایک منفرد آئی ڈی بنائی جائے گی، جس کے ذریعے داخلہ، حاضری، تعلیمی کارکردگی، امتحانی ریکارڈ اور اسکول کی تبدیلی کا مکمل ریکارڈ ایک ہی ڈیجیٹل پروفائل میں محفوظ اور قابلِ رسائی ہوگا۔
اجلاس میں نادرا کے ڈائریکٹر جنرل عامر علی خان، ڈائریکٹر ایڈمن کرنل راؤ رضوان، ڈائریکٹر آپریشنز مقصود جھنڈانی اور محکمہ اسکول ایجوکیشن کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں سندھ کے سرکاری اسکولوں میں ڈیجیٹل داخلہ رجسٹریشن، نادرا کے ساتھ ڈیٹا انٹیگریشن، منفرد طلبہ شناختی نظام اور آئندہ کے عملی طریقہ کار پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ میں SELECT منصوبے کے تحت 600 اسکولوں میں اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ اینڈ ریڈریسل سسٹم (SAMRS) کے ذریعے ڈیجیٹل داخلہ رجسٹریشن پہلے ہی جاری ہے، جسے مرحلہ وار تمام سرکاری اور سرکاری معاونت سے چلنے والے اسکولوں تک توسیع دی جائے گی۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ سندھ حکومت اسکولوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے، جبکہ اساتذہ اور طلبہ کے لیے ڈیجیٹل حاضری نظام بھی مختلف اسکولوں میں کامیابی سے نافذ کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر طالب علم کا داخلہ نادرا کے تصدیق شدہ ب فارم نمبر کے ساتھ ڈیجیٹل طور پر محفوظ کیا جائے گا اور اسے SAMRS سے منسلک کیا جائے گا، جس سے فرضی اور دوہرے داخلوں کا خاتمہ ممکن ہوگا، جبکہ مسلسل غیر حاضر رہنے یا تعلیم چھوڑنے کے خطرے سے دوچار بچوں کی بروقت نشاندہی بھی کی جا سکے گی۔
سید سردار علی شاہ نے کہا کہ اگر کوئی طالب علم تعلیم چھوڑ دے یا کسی دوسرے اسکول میں منتقل ہو جائے تو اس کا ریکارڈ باآسانی ٹریک کیا جا سکے گا، جبکہ اس جدید نظام سے تعلیمی انتظام، نگرانی اور خدمات کی فراہمی مزید مؤثر ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے انسانی مداخلت کم ہوگی، داخلوں اور حاضری کے نظام میں شفافیت بڑھے گی اور درست ڈیٹا کی بنیاد پر تعلیمی منصوبہ بندی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اصلاحات کو مزید مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکے گا۔
نادرا کے ڈائریکٹر جنرل عامر علی خان نے کہا کہ ڈیجیٹل داخلہ نظام کے ذریعے بچوں کے درست اور قابلِ اعتماد تعلیمی اعداد و شمار مرتب کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ ہر طالب علم کو ب فارم سے منسلک منفرد تعلیمی شناخت دی جا سکے گی، جس کے ذریعے وہ اپنے پورے تعلیمی سفر کے دوران ایک ہی ریکارڈ پر موجود رہے گا۔
انہوں نے بتایا کہ نادرا سندھ حکومت کے ساتھ مل کر داخلہ رجسٹریشن کا ڈیٹا مرتب کرنے کے لیے مکمل تکنیکی وسائل فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، جبکہ نادرا سندھ میں برتھ اور ڈیتھ رجسٹریشن کے نظام پر بھی کام کر رہا ہے، جس سے مستقبل میں مختلف سرکاری ڈیجیٹل سروسز کے درمیان مؤثر روابط قائم کرنے میں سہولت ملے گی۔
اجلاس کے اختتام پر وزیر تعلیم سندھ نے محکمہ اسکول ایجوکیشن اور نادرا کو ڈیجیٹل داخلہ نظام کے عملی طریقہ کار کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کی تاکہ صوبے بھر میں اس جدید نظام پر مرحلہ وار عملدرآمد شروع کیا جا سکے۔