بحیرہ احمر پر کڑی نظر ہے،سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا،پاکستان

سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو خطرات لاحق کرنا ناقابل قبول ہے۔

July 23, 2026 · اہم خبریں

 

پاکستان نے بحری تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کارروائیاں عالمی امن، علاقائی تجارت اور سمندری سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان بحری جہازوں کو نشانہ بنانے یا دھمکانے کے اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو خطرات لاحق کرنا ناقابل قبول ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے سعودی کمرشل بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے اور حملوں کی اطلاعات پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ سمندری راستوں کی سلامتی برقرار رکھنا عالمی تجارت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے سمندری مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے قوانین کے تحت پاکستان کو اپنے بحری اثاثوں اور قومی مفادات کے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔

 

ترجمان کے مطابق ،ہماری قومی سلامتی اور ہمارے اثاثوں کا دفاع کوئی باریک لکیر نہیں ،بلکہ یہ ایک سر خ لکیرہے۔ یہ سرخ لکیر سختی سے ہمارے اپنے قومی سلامتی کے تناظر میں ہے۔ پاکستانی پرچم والے جہازوں یا ہمارے تجارتی جہازوں پرکسی بھی حملے کو پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور اس کا فوری جواب دیا جائے گا۔ہم اپنے دفاع (self-defense) کا حق استعمال کرنے کے لیے ایسا کریں گے۔ جہاں تک سعودی عرب کے پہلو کا تعلق ہے، ہم سعودیہ کے ساتھ اپنے تمام دو طرفہ معاہدوں بشمول باہمی دفاعی معاہدہ،پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہیں۔

 

بحیرہ احمر میں فوجی تعیناتی کے حوالے سے ترجمان کا کہناتھاکہ اس علاقےمیں، تجارتی جہازوں کی بہت زیادہ آمدورفت رہتی ہے۔عالمی تجارت کا ایک نمایاں حصہ 27 کلومیٹر کے اس حصے سے گزرتا ہے۔کیا چیز خطرہ یا حملہ کہلائے گی، اس کا تکنیکی تعین ہماری افواج کریں گی۔ ہم اس علاقے میں چوکنا رہیں گے۔ سعودی عرب یا کسی بھی ملک کے ساتھ ہمارے تمام معاہدے،ایک بار جب وہ باقاعدہ عمل کے ذریعے طے پا جاتے ہیں، خاص طورپر جب ان کی توثیق بھی ہوجاتی ہے،تو وہ نافذ العمل رہتے ہیں۔ ان معاہدوں کے حوالے سے پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہم اپنے دو طرفہ معاہدوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں گے۔

 

طاہرحسین اندرابی کا کہناتھاکہ ہم مجموعی طور پر بین الاقوامی برادری اور اپنے شراکت داروں سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں۔ہم صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا، اس بات کا تعین کہ کیا چیز خطرہ ہےاور کیا چیز ایک فعال حملہ ہے، یہ آپریشنل تفصیلات کا معاملہ ہے۔ جہاں تک علاقے میں پاکستانی بحری افواج کی موجودگی کا تعلق ہے، یہ بھی ایک آپریشنل معاملہ ہے۔