سینیٹ قائمہ کمیٹی اجلاس ،صحافیوں کوپیکاایکٹ سے تحفظ دینے کافیصلہ
این سی سی آئی اے کو اخبارات،ویب سائٹس اور ٹی وی خبروں پر کارروائی سےروک دیاگیا
فائل فوٹو
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے صحافیوں کو پیکا ایکٹ سے بچانے کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو کسی بھی اخبار، اس کے ڈیجیٹل ایڈیشن، ویب سائٹ یا ٹی وی چینل کی شائع شدہ خبر پر کارروائی سے روک دیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس کنوینر سینیٹر سرمد علی کی زیرصدارت منعقد ہوا، جس میں متعلقہ امور کا جائزہ لیا گیا۔
کنوینر کمیٹی سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ اخبارات سے متعلق شکایات کے لیے پریس کونسل آف پاکستان جبکہ ٹی وی چینلز کے لیے پیمرا متعلقہ فورمز ہیں۔ انہوں نے پاس گروپ کو بھی ہدایت کی کہ وہ اپنی شکایت پریس کونسل میں دائر کرے۔
سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ پیکا قانون کی منظوری کے وقت حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔
اجلاس میں ایک صحافی کی جانب سے بیوروکریٹس کے لیے “بیوروکرپٹ” کا لفظ استعمال کرنے سے متعلق معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ این سی سی آئی اے حکام نے بتایا کہ اخبار نے متنازع کالم ہٹا دیا ہے، تاہم وہ سوشل میڈیا پر موجود ہے۔
سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ اگر اخبار نے کالم ہٹا دیا تو اس کا مطلب ہے کہ اسے غلط سمجھا گیا، لیکن اگر وہی مواد سوشل میڈیا پر موجود ہے تو قانون میں ابہام موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یا تو قانون ختم کیا جائے یا اس میں مناسب ترمیم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ صرف اخبار سے خبر حذف کرکے اسے سوشل میڈیا پر وائرل کرنا بھی ایک مسئلہ ہے، تاہم این سی سی آئی اے نے اس معاملے میں صرف نوٹس جاری کیا، مقدمہ درج نہیں کیا۔
نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال نے کہا کہ بدقسمتی سے زیادہ تر کارروائیاں صحافیوں کے خلاف ہو رہی ہیں، حالانکہ کوئی ذمہ دار صحافی ثبوت کے بغیر خبر شائع نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اخبار اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں فرق کو سمجھنا ہوگا اور صحافی برادری تمام مشکلات کے باوجود ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
کمیٹی نے مذکورہ معاملہ مزید کارروائی کے لیے پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوا دیا۔
اجلاس میں صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹہ اور ہیلتھ کارڈ کے مسائل بھی زیر بحث آئے۔ نیشنل پریس کلب کے صدر عبدالرزاق سیال نے بتایا کہ 22 برس گزرنے کے باوجود صحافیوں کو پلاٹس نہیں مل سکے، جبکہ متعدد کمیٹیوں اور اسکرونٹی کے عمل کے باوجود معاملہ مسلسل تاخیر کا شکار ہے۔
سیکرٹری نیشنل پریس کلب راؤ فرقان نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کا دو فیصد ہاؤسنگ کوٹہ بحال کرکے سمری فوری طور پر کابینہ سے منظور کرائی جائے اور ہیلتھ کارڈ کا مسئلہ بھی حل کیا جائے۔
قائمہ کمیٹی نے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو پلاٹس دینے کے معاملے پر سینیٹر وقار مہدی، سینیٹر عبدالشکور اور سینیٹر جان محمد پر مشتمل تین رکنی ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی، جو تین دن میں رپورٹ جبکہ سات دن میں پیش رفت سے متعلق سفارشات پیش کرے گی۔
اجلاس کے دوران سینیٹر پرویز رشید نے صحافیوں کو وزیراعظم کی قرضہ اسکیم میں شامل کرنے کی تجویز بھی دی، جبکہ قائمہ کمیٹی نے ہاؤسنگ کوٹہ میں اضافے اور صحافیوں کے ہیلتھ کارڈ کے مسائل جلد حل کرنے کی ہدایت جاری کی۔