پاکستانی صحافیون کو ملازمت کے بہانے غیرملکی ایجنسیوں کیلئے استعمال کرنےکا انکشاف
سیاسی مضامین، خفیہ معلومات اور مالی مراعات کی پیشکش، حکام کو آگاہ کر دیا گیا
فائل فوٹو
ملک میں میڈیاکے ذریعے،بھاری رقومات کے عوض پاکستان مخالف پراپیگنڈے کے لیے بیرون ملک سرگرم ایک مشکوک نیٹ ورک سامنے آیاہے،ایک رپورٹر کو ہائرکرکے خفیہ اور حساس معلومات بھی حاصل کرنے کی کوشش ہوئی۔اس کا تعلق دبئی سے بتایا گیا لیکن مالی لین دین سندھ سے ٹریس ہوا۔
انگریزی رونامے دی نیوز نے ،8 ماہ کے دوران ، اس نیٹ ورک کی مبینہ کوشش کو دستاویزی شکل دی ہے جس میں نامہ نگار کو بھرتی کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاکہ وہ تیار شدہ سیاسی مضامین شائع کرائے اور حساس معلومات تک رسائی فراہم کرے، جس کے بدلے میں طویل مدتی مالی مراعات اور مستقبل کی ضمانتیں پیش کی جا رہی تھیں۔
معاملے کی حساسیت کے پیش نظر قومی سلامتی کے ممکنہ مضمرات کے باعث متعلقہ حکومتی اداروں کو آگاہ کر دیا گیا۔ یہ آپریشن ایڈیٹر انویسٹی گیشن انصار عباسی کی ادارت میں مبینہ بھرتی کے طریقہ کار کو دستاویزی شکل دینے کے لیے کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق پہلی بار نومبر 2025 میں فیس بک کے ذریعے رابطہ کیا گیا، جہاں دبئی میں قائم ایک پبلک ریلیشنز کمپنی کی نمائندہ ظاہر کرنے والی خاتون نے مختلف ممالک میں رائے پر مبنی مضامین شائع کرانے میں تعاون کی پیشکش کی اور صحافی کے پیشہ ورانہ پس منظر اور میڈیا روابط سے متعلق معلومات طلب کیں۔
چند ہفتوں بعد خاتون نے مبینہ طور پر بتایا کہ اس کے مؤکل پاکستان کے مرکزی اخبارات میں پہلے سے تیار شدہ سیاسی مضامین شائع کرانا چاہتے ہیں۔ ان مضامین کے موضوعات میں پاکستان کی عسکری قیادت، معیشت، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC)، پاکستان چین تعلقات، افغانستان اور بلوچستان شامل تھے۔
تحقیق کے مطابق پیشکش مسترد کیے جانے کے باوجود رابطہ جاری رکھا گیا اور طویل المدتی تعلق، مستقل اسائنمنٹس اور بڑھتی ہوئی ادائیگیوں کی بات کی گئی۔ خاتون نے پاکستان کے میڈیا نظام، اخبارات کے اثر و رسوخ، رائے کے مضامین کی منظوری کے طریقہ کار اور سوشل میڈیا پر ان کی تشہیر سے متعلق سوالات بھی کیے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ پہلے مضمون کی اشاعت کے لیے 70 ہزار روپے کی پیشکش کی گئی، جن میں سے 35 ہزار روپے ایڈوانس دینے کی بات کی گئی۔ ادائیگی کرپٹو کرنسی کے ذریعے وصول کرنے پر اصرار کیا گیا، تاہم انکار کے بعد رقم ڈیجیٹل والیٹ کے ذریعے منتقل کی گئی۔
تحقیق کے مطابق ابتدائی جائزے سے معلوم ہوا کہ رقم سندھ کے ایک دور دراز علاقے کے آؤٹ لیٹ سے بھیجی گئی، جبکہ رابطے کے لیے برطانیہ کا فون نمبر استعمال کیا گیا۔ بعد ازاں مزید 68 ہزار روپے کرپٹو کرنسی کے ذریعے منتقل کیے گئے، جس کے بعد مجموعی موصولہ رقم ایک لاکھ تین ہزار روپے ہو گئی۔
آئندہ چند ماہ کے دوران واٹس ایپ پر تین اشاعت کے لیے تیار مضامین بھیجے گئے، جن میں پاکستان کی عسکری قیادت، حکومتی معاشی مؤقف اور ایس آئی ایف سی پر تنقید کی گئی تھی۔ ایک مضمون میں پاکستان کے آرمی چیف اور وزیراعلیٰ پنجاب کا نام شامل کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔ دعووں کے ثبوت طلب کرنے پر بیرون ملک مقیم پاکستان مخالف سرگرم کارکنوں کی سوشل میڈیا پوسٹس فراہم کی گئیں۔
تحقیق کے مطابق بعد ازاں غیر شائع شدہ معلومات، بالخصوص پاک۔افغان سرحد سے متعلق پیش رفت اور سرکاری اداروں میں روابط کی تفصیلات حاصل کرنے کی بھی کوشش کی گئی، تاہم صحافی نے نہ تو ایسی معلومات فراہم کیں اور نہ ہی حاصل کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
تحقیق کے آخری مرحلے میں صحافی نے خاتون سے ریکارڈ شدہ واٹس ایپ کال پر سوال کیا کہ آیا اس کا تعلق کسی غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسی سے ہے۔ جواب میں خاتون نے یورپی ملک میں ملازمت اور ضرورت پڑنے پر صحافی اور اس کے اہل خانہ کی بیرون ملک منتقلی میں مدد کی پیشکش کی اور کہا کہ اس حوالے سے وہ اپنے “باسز” سے مشاورت کرے گی۔
اگلے روز خود کو خاتون کا اعلیٰ افسر ظاہر کرنے والے شخص نے اسی واٹس ایپ نمبر سے رابطہ کیا اور فی مضمون ایک لاکھ 70 ہزار روپے ادائیگی کی پیشکش کرتے ہوئے 70 ہزار روپے اشاعتی اخراجات اور ایک لاکھ روپے صحافی کے لیے مقرر کرنے کی بات کی۔
تحقیق کے مطابق اس شخص نے ضرورت پڑنے پر ایک ہفتے کے اندر صحافی، اس کی اہلیہ اور بچوں کے لیے ویزوں کے انتظام پر بھی آمادگی ظاہر کی اور دعویٰ کیا کہ بیرون ملک منتقلی کی صورت میں بین الاقوامی میڈیا انڈسٹری میں ملازمت بھی دلوائی جا سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جب دوبارہ اس رابطے کے کسی غیرملکی ایجنسی سے تعلق کے شبہے کا ذکر کیا گیا تو اس شخص نے کہا، “آپ غلط سمت میں لے کر جا رہے ہیں۔” رپورٹ کے مطابق اس کی اردو بولنے کا لہجہ پاکستانی محسوس نہیں ہوتا تھا۔
تحقیق یہ تعین نہیں کر سکی کہ اس آپریشن کی مالی معاونت کس نے کی، مضامین کس نے تحریر کیے یا نیٹ ورک کو کون چلا رہا تھا، تاہم دستیاب شواہد میں مالی ادائیگیوں کی بار بار پیشکش، بیرونِ ملک تیار کردہ سیاسی مضامین کی اشاعت، غیر شائع شدہ معلومات کے حصول کی کوشش اور آپریشن بے نقاب ہونے کی صورت میں بیرون ملک منتقلی کی پیشکش کا ریکارڈ موجود ہے۔