راولا کوٹ میں لانگ مارچ کے شرکا کیخلاف کریک ڈاؤن ، شدید شیلنگ
عیدگاہ گراؤنڈ کا 50 روزہ دھرنا لانگ مارچ میں تبدیل، دریک، بس ٹرمینل اور متیال میرہ سے پیش قدمی پر حالات کشیدہ ، سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات
فائل فوٹو
راولاکوٹ : آزاد کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں حالات شدید کشیدہ ہو گئے ہیں، جہاں گزشتہ 50 دنوں سے جاری عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاجی دھرنا حکومت کے ساتھ معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے کے بعد مظفرآباد کی جانب ’لانگ مارچ‘ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ مظاہرین کی مختلف راستوں سے پیش قدمی کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے شدید کریک ڈاؤن کرتے ہوئے آنسو گیس کی شیلنگ شروع کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق راولاکوٹ کے عیدگاہ گراؤنڈ میں عوامی ایکشن کمیٹی کا دھرنا جاری تھا، تاہم مذاکرات میں خاطر خواہ نتائج نہ نکلنے اور اکتوبر 2025ء کے معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے پر کمیٹی کے کور ممبر عمر نذیر نے 25 جولائی کو مظفرآباد مارچ کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد دیگر اضلاع سے بھی شہریوں کی بڑی تعداد راولاکوٹ پہنچ چکی ہے۔
مقامی صحافی راشد نذیر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ حمزہ نصیر کے مطابق دریک، بس ٹرمینل اور متیال میرہ کے مقاصد سے دھرنے کے شرکاء نے پی ایس او پیٹرول پمپ اور دیگر مختلف راستوں سے ٹولیوں کی صورت میں شہر اور منزل کی طرف پیش قدمی کی۔ مظاہرین کی جانب سے تین اطراف سے شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو پیش قدمی سے روکنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے شدید آنسو گیس کی شیلنگ کی جا رہی ہے جس سے علاقے میں بھگدڑ مچ گئی اور فضا مکدر ہے۔ راولاکوٹ شہر اور اس کے اطراف میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ علاقے میں سخت تناؤ پایا جاتا ہے۔