آزادکشمیر مسئلے کا حل مذاکرات سے نکالا جائے۔حافظ نعیم۔احتجاج عوام کا آئینی حق ہے۔فضل الرحمان
اگر حکومت جماعت اسلامی کی ثالثی کی پیشکش قبول کر کے مذاکرات کا راستہ اختیار کرتی تو خونریزی سے بچا جا سکتا تھا۔
فائل فوٹو
جماعت اسلامی کے امیر نعیم الرحمان نے راولا کوٹ میں فائرنگ کے واقعے اور شہریوں کی ہلاکت و زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی مذمت کی ہے۔
اپنے بیان میں نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر حکومت جماعت اسلامی کی ثالثی کی پیشکش قبول کر کے مذاکرات کا راستہ اختیار کرتی تو خونریزی سے بچا جا سکتا تھا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک طرف انتخابات کے نام پر بے ضابطگیاں جاری ہیں ۔ دوسری جانب مظاہرین کے ساتھ بات چیت کے بجائے طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ایسے فیصلوں سے کشمیر کی تاریخی جدوجہد کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا طرزِ عمل تبدیل کریں اور فوری طور پر مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا پُرامن حل تلاش کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔
ادھر، جمعیت علمائے اسلام ایف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہناہے کہ کشمیری عوام پر فائرنگ اور تشدد کی مذمت کرتے ہیں ۔ طاقت کے نشے میں مدہوش قوتوں کی اپنے ہی نہتے عوام پر فائرنگ کھلی دہشت گردی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ آج کشمیر کاز کو دفن کیا جا رہا ہے۔حکومتی پالیسیوں کیخلاف احتجاج عوام کا آئینی حق ہے۔ کیا عوام کو اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے کی بھی اجازت نہیں ؟ ہم نے کوشش کی کہ معاملہ یہاں تک نہ پہنچے لیکن ریاستی اداروں نے معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا۔ آج کشمیری عوام نے دھاندلی زدہ انتخابات مسترد کردیئے ہیں ۔حقوق مانگنے والوں کو کب تک غیر ملکی ایجنٹ قرار دیا جاتا رہے گا ۔
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہناتھاکہ ریاست فوری طور پر ظلم بند کرے ،عوام کو جائز احتجاج کا حق دیا جائے ۔اس ظلم کے خلاف اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ شہداء کی بلندی درجات کے لئے دعاگوہیں اور لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہیں ۔