آزادکشمیر اسمبلی :امن وامان کی صورت حال پر غیر جانب دار تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کی قراردادمنظور

کمیشن کی حتمی رپورٹ آنے تک مظاہرین سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل

July 30, 2026 · اہم خبریں

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے موجودہ صورتحال کے تناظر میں ٹروتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن کمیشن کے قیام کی قرارداد منظور کرلی۔

قانون ساز اسمبلی کا اجلاس اسپیکر نبیلہ ایوب کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چودھری یاسین نے قرارداد پیش کی۔ ایوان نے متفقہ طور پر قرارداد کی منظوری دے دی۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حالیہ واقعات کے حقائق جاننے کے لیے ایک غیر جانبدار کمیشن تشکیل دیا جائے، جسے تحقیقات کے لیے مکمل اختیارات اور تمام متعلقہ معلومات تک رسائی حاصل ہو۔

قرارداد کے مطابق کمیشن کی حتمی رپورٹ آنے تک مظاہرین سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی گئی ہے، جبکہ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حالات کو معمول پر لانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

ایوان نے پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کی خدمات اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان خراب کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی پرامن مظاہرین سے اپیل کی گئی کہ وہ کسی بھی مسلح گروہ یا تشدد پسند عناصر سے خود کو الگ رکھیں۔

قرارداد میں آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ سروس کی فوری بحالی، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ہر قسم کے تشدد، انتشار اور غیر قانونی سرگرمیوں کی مخالفت کا بھی اعادہ کیا گیا۔

 

قرارداد کے اہم نکات

کشیدگی کے دوران جاں بحق اور زخمی شہریوں و اہلکاروں کے خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار ۔پرامن احتجاج اور جائز مطالبات پیش کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم تشدد، اسلحہ، توڑ پھوڑ اور بدامنی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
موجودہ بحران کی وجوہات، جانی و مالی نقصان اور تشدد کے واقعات کی شفاف انکوائری کے لیے ایک بااختیار اور آزاد ٹروتھ کمیشن کے قیام کی اصولی حمایت۔کمیشن کی توثیق کے ساتھ ہی احتجاج ختم کرنےاور حکومت کی جانب سے روڈز، انٹرنیٹ، موبائل سروسز اور روزمرہ کی شہری و معاشی سرگرمیاں فوری بحال کرنے پر زور۔

حکومت عوام کے تمام جائز سیاسی، معاشی اور انتظامی مطالبات کو مذاکرات اور افہام و تفہیم سے حل کرے۔ کسی بھی فرد یا گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے یا ریاست کی رٹ چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تاہم گرفتاریوں اور تفتیش میں شفاف عدالتی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

ریاست کے امن، خوشحالی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے سیاسی قیادت سمیت تمام مکاتب فکر سےمتحد ہونے کی اپیل۔