پاکستانی فوج نے واٹس ایپ چھوڑ کر چینی ایپ استعمال کرنا شروع کردی، غیرملکی میڈیا کا دعویٰ

واٹس ایپ کے ذریعے حساس معلومات کے تبادلے میں ممکنہ نگرانی، ہیکنگ اور ڈیٹا لیک ہونے کے خدشات کے باعث متبادل پلیٹ فارم اپنانے کی سفارش کی گئی۔

August 5, 2026 · قومی

اسلام آباد: غیرملکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فوج نے سائبر سیکیورٹی خدشات کے باعث سرکاری مواصلات کے لیے واٹس ایپ کے استعمال میں کمی لاتے ہوئے چینی میسجنگ پلیٹ فارم WeChat کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے پاکستان فوج کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

رپورٹس کے مطابق فوجی قیادت نے داخلی سطح پر سائبر سیکیورٹی کے معاملات کا جائزہ لینے کے بعد حساس اور سرکاری نوعیت کے رابطوں کے لیے زیادہ محفوظ مواصلاتی نظام اختیار کرنے پر غور کیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ واٹس ایپ کے ذریعے حساس معلومات کے تبادلے میں ممکنہ نگرانی، ہیکنگ اور ڈیٹا لیک ہونے کے خدشات کے باعث متبادل پلیٹ فارم اپنانے کی سفارش کی گئی۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق مجوزہ تبدیلی کے تحت چین کی مقبول ایپلیکیشن WeChat کو سرکاری رابطوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو پیغام رسانی، وائس اور ویڈیو کالز کے ساتھ فائل شیئرنگ کی سہولت بھی فراہم کرتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پیش رفت پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی اور تکنیکی تعاون کے تناظر میں بھی دیکھی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق مشترکہ مواصلاتی پلیٹ فارم کا استعمال دونوں ممالک کے درمیان عسکری رابطوں، مشترکہ مشقوں اور تکنیکی تعاون کو مزید مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

غیرملکی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں بھارت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی نے 2020 میں قومی سلامتی کے خدشات کے باعث متعدد چینی ایپس، جن میں WeChat بھی شامل تھی، پر پابندی عائد کر دی تھی، جبکہ پاکستان کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ محفوظ سرکاری مواصلات کے لیے چینی پلیٹ فارم کو ترجیح دے رہا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں دفاعی اور حساس ادارے عام صارفین کی میسجنگ ایپس کے بجائے خصوصی یا زیادہ محفوظ مواصلاتی نظام استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ حساس معلومات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

واضح رہے کہ اس خبر کی بنیاد غیرملکی میڈیا کی رپورٹس ہیں، جبکہ پاکستان فوج یا متعلقہ حکومتی اداروں کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی سرکاری بیان یا تصدیق جاری نہیں کی گئی۔