سندھ کی تقسیم پر کسی کی لاشیں نہیں گرنے دیں گے، مراد علی شاہ

ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم احتجاج ایسا ہونا چاہیے جس سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

August 6, 2026 · قومی

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا آئینی طریقہ کار موجود ہے، تاہم سندھ کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔

کراچی میں سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے زیر اہتمام مائننگ ٹیکنیکل کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بعض افراد ملک کے نظام کو ناکام قرار دے رہے ہیں، لیکن اگر وہ تھر کول منصوبے کا جائزہ لیں تو انہیں کامیاب ترقیاتی ماڈل نظر آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کے لیے متعلقہ اسمبلی کی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، جبکہ سندھ اسمبلی متعدد بار نئے صوبوں کی مخالفت میں قراردادیں منظور کر چکی ہے۔ ان کے بقول اس موضوع پر بحث کی جا سکتی ہے، لیکن سندھ کی تقسیم سے متعلق مؤقف واضح ہے۔

مراد علی شاہ نے احتجاج کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم احتجاج ایسا ہونا چاہیے جس سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

گندم کی خریداری کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے پانچ لاکھ ٹن گندم خریدنے کی منظوری دی ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر دس لاکھ ٹن تک خریداری کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے تاکہ مقامی کسانوں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

اس سے قبل مائننگ ٹیکنیکل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تھر کول منصوبہ حکومت، مقامی آبادی اور نجی سرمایہ کاروں کے باہمی تعاون کی کامیاب مثال ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے معدنی وسائل سے مؤثر فائدہ اٹھانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بہتر انفراسٹرکچر اور مقامی آبادی کی شمولیت ناگزیر ہے۔

کانفرنس میں سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر اقبال نے کہا کہ پاکستان میں سونا، تانبا اور دیگر معدنی وسائل کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جن میں عالمی سرمایہ کار دلچسپی لے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ سال کانفرنس کو بین الاقوامی سطح پر مزید وسعت دی جائے گی، جبکہ کول ٹو فرٹیلائزر گیسیفیکیشن منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔