عمران خان کا معائنہ الشفا کے بجائے پمز میں ہونے کی تصدیق، حکومت نے ملبہ پی ٹی آئی پر ڈال دیا
کارکنوں نے صورتحال ایسی پیدا کی، معائنے میں الشفا کے ڈاکٹر شامل تھے، وزیر اطلاعات
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے تصدیق کردی ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کا طبی معائنہ الشفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمز ہسپتال میں کرایا گیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس میں شفا ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔
عطا تارڑ کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر موجود پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ’پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف سے جو سکیورٹی کی صورتحال شفا ہسپتال کے راستے میں اور باہر پیدا کی گئی اس کے پیش نظر ان کو پمز ہسپتال لے جایا گیا اور طبی معائنے کے مطابق وہ صحت مند پائے گئے۔‘
یاد رہے کہ یہ پوسٹ اس بیان کے تقریبا ایک گھنٹے بعد شیئر کی گئی ہے جس میں انھوں نے عمران خان کے معائنے اور ہسپتال سے اڈیالہ منتقلی کی بات تو کی تھی مگر ہسپتال کا نام نہیں بتایا تھا۔
عطا تارڑ کے مطابق ’ان (عمران خان) کو پہلے بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور اب بھی جب ان کو ضرورت پڑے گی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔‘
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد عمران خان کی ممکنہ منتقلی کے پیش نظر جمعرات کے روز سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ممکنہ منتقلی کے معاملے پر اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔
اسلام آباد پولیس نے شفا انٹرنیشنل ہسپتال جانے والے متعدد راستے ٹریفک کے لیے بند کر دیے تھے جبکہ ہسپتال کے اطراف اضافی نفری تعینات کر دی گئی تھی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے حلقوں اور بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل سے گاڑیوں کے دو قافلے روانہ کیے گئے۔ ایک الشفا اسپتال پہنچا اور دوسرا پمز پہنچ گیا۔
اس سے قبل عمران خان کے لندن میں مقیم ساتھی ذلفی بخاری نے کہا تھا کہ وہ تصدیق کرسکتے ہیں کہ عمران خان کو الشفا اسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔