جمہوریت کے علمبرداروں نے رات کو کس کا مذاق اڑایا؟ ایمل ولی خان
اگر قیدیوں کے حوالے سے یکساں نظام ہوتا تو بانیٔ پی ٹی آئی کے ساتھ یہ ہوتا جو ان کے ساتھ رات 12 بجے سے صبح 5 بجے تک ہوتا رہا؟
فائل فوٹو
اسلام آباد: صدر عوامی نیشنل پارٹی سینیٹر ایمل ولی خان کا کہنا ہے میں نے کل نظام کی بات کی تو پی ٹی آئی کے کچھ ساتھی اس پر ناراض ہو گئے۔ اگر قیدیوں کے حوالے سے یکساں نظام ہوتا تو بانیٔ پی ٹی آئی کے ساتھ یہ ہوتا جو ان کے ساتھ رات 12 بجے سے صبح 5 بجے تک ہوتا رہا؟ کیا جمہوریت کے علمبرداروں نے رات کو سپریم کورٹ کا مذاق نہیں اڑایا؟
سماجی رابطے کی ویب سائٹ’’ایکس‘‘ پر اپنےبیان میں انہوں نے کہا یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ نواز شریف بیمار ہوئے تو ان کی بیماری کا امریکہ کے اسٹیج تک مذاق اڑایا گیا۔ کلثوم نواز کو مر کر اپنی بیماری کا ثبوت دینا پڑا۔ آج عمران بیمار ہیں تو وفاقی وزراء سے لے کر عمران خان کے اپنے لوگ بھی اس پر سیاست کر رہے ہیں۔ اس ملک کا نظام اسی وجہ سے تباہ ہوا کہ یہاں بیماری میں بھی ڈیل کی کوشش کی جاتی ہے۔ سیاست کو سیاست رہنے دیں، ووٹ کو عزت بھی مل جائے گی، نظام بھی ٹھیک ہو جائے گا اور اداروں پر ایک ’ادارہ‘ بھی حاوی نہیں ہوگا۔