پارلیمان کے اندر مضبوط مشترکہ اپوزیشن بنانے پر تمام اپوزیشن جماعتوں کا اتفاق
وزیراعظم مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں مگر یہاں ایک ہی ہاتھ ہے جو قوم کے چہرے پر تھپڑ برسا رہا ہے، مولانا فضل الرحمٰن
مولانا فضل الرحمان اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کر رہے ہیں
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پارلیمان کے اندر ایک مشترکہ اپوزیشن تشکیل دینے پر مکمل اتفاق ہو گیا ہے تاکہ تمام اپوزیشن جماعتیں ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت حکومت کے سامنے مؤثر اور بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ سیاسی اور حکومتی رویے پر شدید تنقید کی اور کہا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دعوے محض زبانی جمع خرچ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم مذاکرات کی دعوت تو ضرور دے رہے ہیں لیکن تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اور اس وقت حالات ایسے ہیں کہ قریب آ کر تالی بجانے والے دونوں ہاتھ موجود نہیں ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ یہاں صورت حال یہ ہے کہ ایک ہی ہاتھ ہے جو اس قوم کے چہرے پر مسلسل تھپڑ مار رہا ہے اور اس تھپڑ کی گونج پورے ملک میں سنائی دے رہی ہے۔
ملک بھر میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ نے کہا کہ اس وقت ملک کے دو صوبوں میں صریحاً حالت جنگ جیسی کیفیت پیدا ہو چکی ہے جہاں ریاست کی رٹ کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے اور عام شہری خود کو بالکل غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے۔ انہوں نے ماضی کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے طویل عرصے کے دوران شدت پسندی کے خاتمے کے لیے متعدد عسکری اور سویلین آپریشن کیے گئے مگر اس کے باوجود امن و امان کے قیام، حکومتی رٹ کے استحکام اور مطلوبہ نتائج کے حصول میں کوئی کامیابی نظر نہیں آ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ابتر سکیورٹی صورت حال کی وجہ سے ملک کی معیشت اور تجارتی سرگرمیاں شدید طور پر متاثر ہو رہی ہیں، اور خصوصاً قبائلی علاقوں کے غریب تاجروں کو روزمرہ کے امور میں انتہائی نوعیت کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے ملکی معیشت اور خارجہ امور پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پاکستان کی مغربی اور مشرقی دونوں سرحدوں پر تجارت معطل اور بند پڑی ہے جبکہ خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی ملک کو شدید نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں جاری عوامی احتجاج کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کے جائز مطالبات سننے کے بجائے ان سے مذاکرات سے گریزاں ہے، جس کے نتیجے میں وہاں کے حالات مزید پیچیدہ اور خراب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اپوزیشن جماعتیں اب خاموش نہیں بیٹھیں گی بلکہ عوام تک اپنا مؤثر مؤقف اور اصل حقائق پہنچائے گی، جبکہ آئندہ پارلیمانی اور جماعتی اجلاس میں تمام متعلقہ جماعتوں سے تفصیلی مشاورت کے بعد مستقبل کے حتمی لائحہ عمل اور اہم فیصلوں کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔