26 کروڑ آبادی کیلئے صرف 4 صوبے ناکافی ہیں، مصطفیٰ کمال
ملک کا موجودہ انتظامی نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا، اس لیے بہتر حکمرانی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ضروری ہے۔
فائل فوٹو
کراچی: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملک کا موجودہ انتظامی نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا، اس لیے بہتر حکمرانی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ضروری ہے۔
کراچی ایئرپورٹ پر قائم سرکاری ڈسپنسری کے توسیعی منصوبے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ گزشتہ 18 برس کے دوران وفاق کی جانب سے سندھ حکومت کو تقریباً 42 ہزار ارب روپے فراہم کیے گئے، تاہم اس کے باوجود کراچی سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں بنیادی مسائل برقرار ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 26 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک کے لیے صرف چار صوبوں کا انتظامی ڈھانچہ کافی نہیں۔ ان کے مطابق کراچی سمیت سندھ کو انتظامی اور حکمرانی کے حوالے سے متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ نئے انتظامی یونٹس کی بات سندھ کی تقسیم کے مقصد سے نہیں کی جا رہی بلکہ اس کا مقصد عوام کو بہتر طرز حکمرانی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں کراچی کو محدود وسائل کے باوجود ایک بہتر شہر بنانے کے اقدامات کیے گئے، لیکن موجودہ نظام میں شہری مسائل حل کرنے کی صلاحیت کمزور ہوچکی ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید دعویٰ کیا کہ کراچی کے نوجوانوں کے سرکاری ملازمتوں کے کوٹے پر جعلی ڈومیسائل کے ذریعے حق تلفی کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں نئے صوبوں اور انتظامی تبدیلیوں کا طریقہ کار موجود ہے، اس لیے اس معاملے پر بات کرنا کوئی غیر آئینی اقدام نہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 1973 کے آئین میں متعدد مرتبہ ترامیم کی جاچکی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی نظام میں بہتری اور اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہتر انتظامی نظام کا فائدہ سندھ کے ہر علاقے، بشمول کشمور، کے عوام کو ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ سے ان کا گہرا تعلق ہے اور وہ صوبے کے عوام کے لیے خوشحالی اور بہتر مستقبل دیکھنا چاہتے ہیں۔