پنجاب بار کونسل نے پی ٹی آئی کے سیاسی پروپیگنڈے سے لاتعلقی اختیار کرلی

وکلاء نمائندگان کو ذاتی اختلافات اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ادارہ جاتی وقار کو مقدم رکھنا چاہیے

August 22, 2026 · قومی

پنجاب بار کونسل نے واضح کیا ہے کہ بعض اراکین کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیان ان کی ذاتی رائے اور مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، جسے پاکستان کی پوری قانونی برادری یا کونسل کا متفقہ اور اجتماعی مؤقف قرار نہیں دیا جا سکتا۔

کونسل کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، جمہوری اداروں میں چند افراد کی رائے کو اکثریت یا پورے ادارے کے اجتماعی مؤقف پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ زیرِ سماعت معاملات (Matter Sub Judice) پر بار کونسلز، بار ایسوسی ایشنز اور ان کے نمائندگان کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو عدالتی کارروائی، اداروں کی آزادی یا عوامی اعتماد پر اثرانداز ہوں، کیونکہ ایسے معاملات کا فیصلہ معزز عدالتوں نے قانون اور آئین کے مطابق کرنا ہے۔

اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ وکلاء کی نمائندہ تنظیم ہونے کے ناطے بار کا پلیٹ فارم کسی فرد یا گروہ کے ذاتی، سیاسی یا جماعتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ پنجاب بار کونسل ایسے کسی بھی بیان یا طرزِ عمل کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی جو ذاتی یا سیاسی مفادات کے حصول کے لیے استعمال ہو یا وکلاء برادری میں انتشار کا باعث بنے۔

بار کونسلز کا بنیادی کردار قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی اور وکلاء کے وقار کے تحفظ میں معاونت کرنا ہے، نہ کہ کسی زیرِ سماعت معاملے پر عدالتی فیصلے سے قبل فریقین کے حق یا مخالفت میں رائے مسلط کرنا۔ پنجاب بار کونسل آئینِ پاکستان، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کے احترام پر غیر متزلزل یقین رکھتی ہے، اور تمام وکلاء نمائندگان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ذاتی اختلافات اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر بار کے وقار، اتحاد اور ادارہ جاتی آزادی کو مقدم رکھیں گے۔