وفاقی کابینہ میں نئے صوبے اور انتظامی یونٹس بنانے کی اب تک کوئی بات زیر غور نہیں، مصطفیٰ کمال
بھارت نے اپنے 9 صوبوں کو بڑھا کر 38 کر دیا ہے جبکہ ہم اب تک صرف 4 پر ہی کھڑے ہیں
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے آباد ہاؤس میں تعمیراتی شعبے کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبوں کی حد میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی بلکہ انتظامی یونٹس کو صوبے میں تقسیم کرنے کی بات ہو رہی ہے اور یہ کوئی سندھی یا مہاجر کا معاملہ نہیں بلکہ نظام کی بہتری کا مسئلہ ہے
خطاب کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی کابینہ میں نئے صوبے یا نئے انتظامی یونٹس بنانے کی اب تک کوئی بات زیر غور نہیں آئی، آئین پاکستان میں ترامیم ہو سکتی ہیں اور ذوالفقار علی بھٹو کے بنائے ہوئے آئین میں بھی صوبے بنانے کا ذکر موجود ہے
مردم شماری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کراچی سندھ کی آبادی کا 38 فیصد اور حیدرآباد 5 فیصد ہے تاہم اس مردم شماری کو تسلیم نہیں کیا جاتا، آصف علی زرداری نے بھی ایک ٹی وی انٹرویو میں تسلیم کیا تھا کہ کراچی کی آبادی 3 کروڑ سے زائد ہے اور حقیقی آبادی کی شرح سندھ میں 55 فیصد بنتی ہے، جبکہ کراچی پاکستان کا پہلا شہر ہے جو مسلسل بڑھ رہا ہے مگر مردم شماری میں تعداد کم کی جا رہی ہے
انہوں نے این ایف سی ایوارڈ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 2010 میں ڈسٹرکٹ ٹیکس کو این ایف سی میں شامل کرکے ہڑپ کر لیا گیا، کراچی کو ڈسٹرکٹ ٹیکس کی مد میں سالانہ 238 ارب روپے ملتے تھے جو خرچ نہیں ہوئے اور مجموعی طور پر 2 ہزار ارب روپے کراچی کے حق کا پیسہ تھا جو اس کے انفرااسٹرکچر پر لگنا تھا، موجودہ نظام پورے ملک کو خراب کر رہا ہے اور 18 سالوں میں 22 ہزار ارب روپے ملے مگر ایک چپڑاسی کی نوکری بھی کراچی ڈومیسائل پر نہیں ہے
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت نے اپنے 9 صوبوں کو بڑھا کر 38 کر دیا ہے جبکہ ہم اب تک صرف 4 پر ہی کھڑے ہیں اس لیے اب 28 ویں آئینی ترمیم کا وقت آ گیا ہے، اس کے علاوہ وزارت صحت کی جانب سے قومی شناختی کارڈ پر 210 ارب روپے کی لاگت سے ہیلتھ کوریج پلان پر کام جاری ہے