مری فائرنگ کیس:انسدادِ دہشت گردی عدالت کا بڑا فیصلہ،مقدمہ عام عدالت منتقل

مری فائرنگ کیس:انسدادِ دہشت گردی عدالت کا بڑا فیصلہ،مقدمہ عام عدالت منتقل

August 22, 2026 · قومی
مری فائرنگ کیس:انسدادِ دہشت گردی عدالت کا بڑا فیصلہ،مقدمہ عام عدالت منتقل

مری فائرنگ کیس:انسدادِ دہشت گردی عدالت کا بڑا فیصلہ،مقدمہ عام عدالت منتقل

راولپنڈی ( امت نیوز) مری میں فائرنگ، ہنگامہ آرائی،گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور ہوٹل کے شیشے توڑنے کے مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے مقدمہ مزید کارروائی کے لیے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی کی عدالت منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔انسدادِ دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ مقدمے کے ریکارڈ اور دستیاب شواہد کے جائزے سے دہشت گردی کے وہ بنیادی عناصر ثابت نہیں ہوتے جو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 کے اطلاق کے لیے ضروری ہیں۔عدالت کے مطابق واقعے میں کسی پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ ریکارڈ سے یہ بھی ثابت نہیں ہوا کہ ملزمان کا مقصد حکومت کو مرعوب کرنا، معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانا یا کسی سیاسی، مذہبی یا لسانی مقصد کا حصول تھا۔
عدالت نے واضح کیا کہ محض فائرنگ، ہنگامہ آرائی یا سنگین نوعیت کا جرم بذاتِ خود دہشت گردی نہیں بن جاتا؛دہشت گردی کی دفعات کے اطلاق کے لیے جرم کے ساتھ دہشت پھیلانے کا ارادہ بھی ثابت ہونا ضروری ہے۔
ملزمان کی جانب سے وکیل اسد عباسی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ واقعے میں دہشت گردی کے قانونی تقاضے پورے نہیں ہوتے، اس لیے مقدمہ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے بجائے عام عدالت میں چلایا جائے۔وکیل نے اپنے دلائل میں سپریم کورٹ کے اہم فیصلوں، بالخصوص غلام حسین کیس PLD 2020 SC 61 اور جاوید اقبال کیس 2024 SCMR 1437 کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ مقدمہ عام عدالت منتقل کیا جائے۔عدالت نے دلائل اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ موجودہ مقدمے کے حقائق دہشت گردی کی قانونی تعریف پر پورے نہیں اترتے۔

پولیس کا الزام کیا تھا؟

مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق 2 جولائی 2025 کو تقریباً شام 7 بجے جی پی او چوک مری کے قریب موجود پولیس پارٹی کو اطلاع ملی کہ مسیاڑی ہوٹل، امتیاز شہید روڈ مری کے قریب دو گروپ ڈنڈوں اور آتشیں اسلحے سے لیس ہو کر آپس میں لڑ رہے ہیں۔پولیس موقع پر پہنچی تو مبینہ طور پر فائرنگ شروع ہوگئی، جس کے دوران گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور مسیاڑی ہوٹل کے شیشے توڑنے کا الزام بھی عائد کیا گیاصورتحال پر قابو پانے کے لیے مزید پولیس نفری اور ایلیٹ فورس طلب کی گئی، جس کے بعد ملزمان کے مختلف سمتوں میں فرار ہونے اور پولیس کی جانب سے تعاقب کے بعد متعدد افراد کو گرفتار کرنے کا مؤقف اختیار کیا گیا۔عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کو بنیاد بنایا
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ۔یعنی دہشت اور خوف پھیلانے کا مخصوص ارادہ بھی ثابت ہونا ضروری ہے۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر سنگین یا پرتشدد جرم لازماً دہشت گردی نہیں ہوتا۔اسی قانونی اصول کی بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ مقدمہ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے دائرہ اختیار میں قابلِ سماعت نہیں، لہٰذا دفعہ 23 ATA 1997 کے تحت کیس کی فائل مزید کارروائی کے لیے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی کو بھجوائی جائے۔مقدمے میں نامزد ملزمان
عدالتی حکم کے مطابق ضمانت پر موجود ملزمان میں:عبدالرحمن،عبدالحمید، سعید نواز، محمد رئیس، احسان شبیر، سدھیر، عبدالوہاب، عتیق الرحمن، شفقت، منصور اخلاق، محمد عیسیٰ، فیصل، ندیم، زاہد، مبشر، اختر نواز، یاسر گل جبار، غالب بشیر اور طفیل اخلاق شامل ہیں۔عدالت نے تمام متعلقہ فریقین اور ملزمان کو 18 اگست 2026 کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی کی عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے جبکہ متعلقہ اہلکار کو مقدمے کی فائل فوری طور پر منتقل کرنے کا حکم دیا گیا۔