جوڈیشل کمیشن پر عدم اعتماد، میر رضا کے اہلخانہ سندھ ہائیکورٹ پہنچ گئے
اہلخانہ کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے بجائے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی درخواست کیے جانے کا امکان ہے۔
فوٹو سوشل میڈیا ( ایکس)
کراچی: نوجوان تاجر میر رضا کی ہلاکت کے معاملے میں اہلخانہ نے سندھ حکومت کی جانب سے قائم کیے جانے والے جوڈیشل کمیشن پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔
میر رضا کے والد میر حسین علی، والدہ مریم اور بہن علیشہ سندھ ہائیکورٹ پہنچے، جہاں اہلخانہ کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے بجائے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی درخواست کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں میر رضا قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ تفتیشی افسر سراج لاشاری اور مقتول کے اہلخانہ کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔
تفتیشی افسر نے کیس کی رپورٹ پیش کرنے کے لیے مزید مہلت کی درخواست کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے پولیس کو 7 ستمبر تک رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔
مدعی کے وکیل ایڈووکیٹ دانیال حسین نے تفتیش میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق سوال کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ موبائل فون اور دیگر اشیا کی فرانزک رپورٹس ابھی موصول ہونا باقی ہیں۔
میر رضا کے والد میر حسین علی پہلے ہی سندھ حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر عدم اعتماد کا اظہار کرچکے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ کیس کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے تاکہ معاملے کی مکمل اور شفاف تفتیش ہوسکے۔
میر رضا قتل کیس۔۔۔!
میر رضا کی فیملی نے سندھ حکومت کا فیصلہ چیلنج کرنے کے لیے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا
سندھ حکومت نے میر رضا کیس تحقیقات کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کیا تھا pic.twitter.com/j4XDGgXpwP— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) August 24, 2026
میر رضا کی بہن علیشہ نے بھی جوڈیشل کمیشن کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اہلخانہ کو کمیشن کے قیام سے متعلق باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کے دائرۂ کار اور شرائط سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کے فیصلے سے متفق نہیں اور ان کا بنیادی مطالبہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل ہے۔
میر رضا کی ہلاکت کا معاملہ کئی ہفتوں سے زیر بحث ہے۔ اہلخانہ ابتدائی تحقیقات اور میڈیکل رپورٹ سے متعلق سوالات اٹھاتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور موت کو خودکشی قرار دینے کے مؤقف کو مسترد کرچکے ہیں۔