جوڈیشل کمیشن پر عدم اعتماد، میر رضا کے اہلخانہ سندھ ہائیکورٹ پہنچ گئے

اہلخانہ کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے بجائے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی درخواست کیے جانے کا امکان ہے۔

August 24, 2026 · قومی
فوٹو سوشل میڈیا ( ایکس)

فوٹو سوشل میڈیا ( ایکس)

 کراچی: نوجوان تاجر میر رضا کی ہلاکت کے معاملے میں اہلخانہ نے سندھ حکومت کی جانب سے قائم کیے جانے والے جوڈیشل کمیشن پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔

میر رضا کے والد میر حسین علی، والدہ مریم اور بہن علیشہ سندھ ہائیکورٹ پہنچے، جہاں اہلخانہ کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے بجائے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی درخواست کیے جانے کا امکان ہے۔

دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں میر رضا قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ تفتیشی افسر سراج لاشاری اور مقتول کے اہلخانہ کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔

تفتیشی افسر نے کیس کی رپورٹ پیش کرنے کے لیے مزید مہلت کی درخواست کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے پولیس کو 7 ستمبر تک رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

مدعی کے وکیل ایڈووکیٹ دانیال حسین نے تفتیش میں ہونے والی پیش رفت سے متعلق سوال کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ موبائل فون اور دیگر اشیا کی فرانزک رپورٹس ابھی موصول ہونا باقی ہیں۔

میر رضا کے والد میر حسین علی پہلے ہی سندھ حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر عدم اعتماد کا اظہار کرچکے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ کیس کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے تاکہ معاملے کی مکمل اور شفاف تفتیش ہوسکے۔

میر رضا کی بہن علیشہ نے بھی جوڈیشل کمیشن کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اہلخانہ کو کمیشن کے قیام سے متعلق باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کے دائرۂ کار اور شرائط سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کے فیصلے سے متفق نہیں اور ان کا بنیادی مطالبہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل ہے۔

میر رضا کی ہلاکت کا معاملہ کئی ہفتوں سے زیر بحث ہے۔ اہلخانہ ابتدائی تحقیقات اور میڈیکل رپورٹ سے متعلق سوالات اٹھاتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور موت کو خودکشی قرار دینے کے مؤقف کو مسترد کرچکے ہیں۔