نئے صوبے پاکستان کے مفاد میں ہیں تو ضرور بننے چاہئیں:طارق فضل چوہدری

ایسا فیصلہ کسی فریق پر زبردستی مسلط نہیں کیا جاسکتا اور چونکہ یہ معاملہ پارلیمنٹ سے متعلق ہے، اس لیے ایوان میں بھی اس پر تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔

August 24, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ اگر نئے صوبوں کا قیام پاکستان کے مفاد اور انتظامی بہتری کے لیے ضروری ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور کرکے نئے صوبے بنائے جانے چاہئیں۔

سوشل میڈیا پر ایک نجی ٹی وی پروگرام کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام پر مثبت اور تعمیری بحث کا آغاز خوش آئند ہے۔ ان کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کو اس اہم معاملے پر اپنی رائے دینے اور بحث کا حصہ بننے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبوں کی تشکیل ایک اہم قومی فیصلہ ہے، اس لیے اس پر وسیع اتفاقِ رائے ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا فیصلہ کسی فریق پر زبردستی مسلط نہیں کیا جاسکتا اور چونکہ یہ معاملہ پارلیمنٹ سے متعلق ہے، اس لیے ایوان میں بھی اس پر تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔

طارق فضل چوہدری نے زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے جماعتی مفادات سے بالاتر ہوکر پاکستان اور عوام کے مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کے مطابق قومی اور انتظامی نوعیت کے معاملات پر سیاسی اختلافات سے ہٹ کر سنجیدہ مشاورت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 1950 میں صوبوں کے معاملے پر کمیشن تشکیل دیا گیا تھا، جس کے بعد بھارتی پنجاب کی تقسیم سے ہماچل پردیش، ہریانہ اور پنجاب سمیت مختلف انتظامی اکائیاں وجود میں آئیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر نئے صوبے انتظامی امور بہتر بنانے اور ملک کے بہترین مفاد میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں تو ان کے قیام پر ضرور غور ہونا چاہیے۔ تاہم اگر اس عمل سے مزید تقسیم یا انتشار کا خدشہ ہو تو اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کا معاملہ کھلے ذہن کے ساتھ بحث، مشاورت اور اتفاقِ رائے کے ذریعے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔