وفات کے بعد قانونی ورثا کا حق برقرار، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے شہری عبد الحق کی اپیل پر سماعت کی

August 24, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی اپیل کنندہ کی وفات کے باوجود اگر اس کے قانونی ورثا موجود ہوں تو محض وفات کی بنیاد پر اپیل خارج نہیں کی جا سکتی۔

جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے شہری عبد الحق کی اپیل پر سماعت کی۔ عدالت نے فیڈرل سروس ٹربیونل کو ہدایت کی کہ وہ تین ماہ کے اندر اپیل کنندہ کے مقدمے کا فیصلہ کرے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر اپیل کنندہ دورانِ کارروائی انتقال کر جائے تو مقدمے سے متعلق قابلِ انتقال فوائد اس کے قانونی ورثا کو مل سکتے ہیں۔

سماعت کے دوران وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عبد الحق ایف بی آر میں اپر ڈویژن کلرک کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ 1995 میں اسی عہدے پر موجود 15 ملازمین کو ترقی دے کر سپروائزر بنا دیا گیا، تاہم عبد الحق کو ترقی کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔

وکیل کے مطابق عبد الحق نے اس معاملے پر چیف کمشنر انکم ٹیکس سے رجوع کیا، جس کے بعد انہیں 2000 میں ترقی دے دی گئی۔ تاہم انہوں نے متعلقہ حکم کو فیڈرل سروس ٹربیونل میں چیلنج کردیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ عبد الحق 13 جنوری 2019 کو انتقال کر گئے، جبکہ فیڈرل سروس ٹربیونل نے تین روز بعد یعنی 16 جنوری کو ان کی درخواست داخلِ دفتر کردی تھی۔

بعد ازاں فیڈرل سروس ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف عبد الحق کے بیٹے نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

سپریم کورٹ نے معاملے پر قانونی ورثا کے حق کو برقرار رکھتے ہوئے فیڈرل سروس ٹربیونل کو مقررہ مدت میں اپیل کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی۔