پنجاب میں سڑک بننے کے بعد کھدائی یا کسی بھی توڑ پھوڑ پر پابندی
لاہور کی 10 سڑکوں کی بیوٹیفکیشن کی منظوری دی گئی۔
فائل فوٹو
لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں سڑک بننے کے بعد کھدائی کرنے یا پھر کسی بھی توڑ پھوڑ پر پابندی عائد کرنے کا حکم دے دیا۔
مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں لاہور، ملتان، بہاولپور، ساہیوال اور فیصل آباد کے اون سورس ریونیو (او ایس آر) منصوبے پیش کیے گئے، وزیر اعلیٰ نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہدایت کی کہ سڑکوں پر بنائے جانے والے مین ہولز کا لیول سڑک کے برابر رکھا جائے، جبکہ نئی سڑک تعمیر ہونے کے بعد اس کی کھدائی یا کسی بھی قسم کی توڑ پھوڑ پر پابندی عائد کی جائے۔
وزیراعلیٰ نے ہر نئی سڑک کے اطراف اسٹینڈرڈ سائٹ ڈرینج بنانے کی ہدایت بھی کی اور تمام منصوبوں کی الگ الگ ٹائم لائن طلب کرلی۔
اعلامیے کے مطابق لاہور کی 10 سڑکوں کی بیوٹیفکیشن کی منظوری دی گئی، جبکہ ملتان روڈ پر اورنج لائن ٹرین ٹریک کی بیوٹیفکیشن کی ہدایت کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے روڈز کے منصوبوں کو ڈسٹ فری بنانے کا حکم بھی دیا۔
لاہور کے مضافاتی دیہی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر و توسیع کے منصوبے کی بھی منظوری دی گئی۔ قصور میں سڑکوں کی تعمیر و توسیع، سولر اسٹریٹ لائٹس اور بیوٹیفکیشن کے منصوبے منظور کیے گئے۔
شیخوپورہ میں سیوریج اینڈ پمپنگ اسٹیشن اور سڑکوں کی تعمیر و توسیع کے 5 منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں ملتان ڈویژن کے 42 او ایس آر ترقیاتی منصوبے منظور کیے گئے، جن میں خانیوال، کبیر والا، میاں چنوں، جہانیاں اور تلمبہ کے مختلف منصوبے شامل ہیں۔
وہاڑی میں سڑکوں، ڈسپوزل اسٹیشن اور سولرائزیشن سمیت 6 اسکیموں کی منظوری دی گئی، جبکہ لودھراں میں چلڈرن پارک اور سڑکوں کی تعمیر و توسیع سمیت 6 ترقیاتی منصوبے منظور کیے گئے۔
بہاولپور کے 12، رحیم یار خان کے 3 اور بہاولنگر کے 8 او ایس آر ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ ساہیوال کے 13، اوکاڑہ کے 4 اور پاکپتن کے 14 ترقیاتی منصوبے بھی منظور کیے گئے۔
ان منصوبوں میں سڑکوں کی بیوٹیفکیشن، تعمیر و توسیع، سولر اسٹریٹ لائٹس، اسپورٹس ایرینا اور دیگر ترقیاتی کام شامل ہیں۔
فیصل آباد میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے 13 منصوبوں، چنیوٹ کے 6 اور جھنگ کے 18 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں راولپنڈی کے 13، اٹک کے 6، مری کے 4 جبکہ جہلم اور چکوال کے 7،7 منصوبوں کی بھی منظوری دی گئی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے حسن ابدال، حضرو اور کلر کہار کے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔