جمائما گولڈ اسمتھ کا برطانوی حکومت سے عمران خان کے حقوق کیلئے مداخلت کا مطالبہ
پاکستان کو اپنی سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کرنا چاہیے اور عمران خان کو مناسب طبی سہولیات، خاندان سے ملاقات اور دیگر بنیادی حقوق فراہم کیے جانے چاہئیں۔
فائل فوٹو
جمائما گولڈ اسمتھ نے پاکستانی حکومت سے عمران خان کے طبی علاج اور بنیادی حقوق سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے برطانوی حکومت سے بھی اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں جمائما نے کہا کہ پاکستان کو اپنی سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کرنا چاہیے اور عمران خان کو مناسب طبی سہولیات، خاندان سے ملاقات اور دیگر بنیادی حقوق فراہم کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے برطانوی وزیراعظم اور سابق وزیر خارجہ کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ برطانیہ اس معاملے پر کب تک خاموش رہے گا۔ جمائما نے دعویٰ کیا کہ عمران خان طویل عرصے سے قید میں ہیں اور انہیں خاندان، وکلا، کتابوں اور ڈاکٹروں تک رسائی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔
جمائما نے اقوام متحدہ کے قیدیوں سے متعلق نیلسن منڈیلا قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے طویل قید تنہائی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے تحت قید تنہائی سے متعلق واضح حدود موجود ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے عمران خان کے جامع طبی معائنے، ذاتی ڈاکٹر تک رسائی، خاندان سے باقاعدہ ملاقاتوں اور ان کے بیٹوں سے فون پر رابطے سے متعلق ہدایات جاری کی تھیں، تاہم ان کے مطابق ان احکامات پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوا۔
جمائما نے معاملے کو پاکستان کی داخلی سیاست سے آگے کا معاملہ قرار دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کے حوالے سے واضح اور کھلا مؤقف اختیار کرے۔
انہوں نے عمران خان کے برطانیہ سے دیرینہ تعلقات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی، یونیورسٹی کی کرکٹ ٹیم کی قیادت کی اور کئی برس کاؤنٹی کرکٹ بھی کھیلی۔
جمائما کے مطابق ان کے بیٹے سلیمان اور قاسم بھی اپنے والد کی صحت کے حوالے سے فکرمند ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں کو پاکستان آکر اپنے والد سے ملاقات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب عمران خان کی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کے الزام میں توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کی جاچکی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 18 اگست کے عدالتی حکم میں عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے، طبی بورڈ تشکیل دینے اور مخصوص ڈاکٹر کو بورڈ میں شامل کرنے سمیت مختلف ہدایات دی گئی تھیں، جن پر درخواست گزاروں کے مطابق مکمل عمل نہیں ہوا۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے مبینہ عدالتی حکم عدولی پر کارروائی کی استدعا کی ہے، جبکہ معاملے پر آئندہ عدالتی کارروائی کا انتظار ہے۔