پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ ہر 15 روز بعد لیا جائے:ٹرانسپورٹرز
حکومت ڈیزل پر فی لیٹر 100 روپے سے زائد مختلف ٹیکسز اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے، اس لیے پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسز اور ڈیوٹیز کا ازسرنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔
فائل فوٹو
ڈیزل کی قیمت میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے گڈز ٹرانسپورٹرز نے حکومت سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے لیے 15 روزہ جائزے کا نظام نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں بار بار اضافہ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کے لیے بھی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیزل پر فی لیٹر 100 روپے سے زائد مختلف ٹیکسز اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے، اس لیے پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسز اور ڈیوٹیز کا ازسرنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔
محمد اویس چوہدری کے مطابق ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے صرف ٹرانسپورٹ کا شعبہ متاثر نہیں ہوتا بلکہ مال برداری کے اخراجات، فریٹ ریٹس، صنعت اور تجارت کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے، جس کا اثر بالآخر عام صارف تک پہنچتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار تبدیلی سے کاروباری طبقے میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ ان کے مطابق گڈز ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ہونے والے تحریری معاہدے کی روح کے مطابق قیمتوں کا جائزہ ہر 15 روز بعد لیا جانا چاہیے۔
ٹرانسپورٹرز نے مطالبہ کیا کہ حکومت روزانہ یا مختصر وقفوں سے قیمتوں میں ردوبدل کے بجائے 15 روزہ قیمتوں کا باقاعدہ نظام نافذ کرے تاکہ کاروباری سرگرمیوں اور مال برداری کے شعبے میں استحکام پیدا ہو۔
محمد اویس چوہدری نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت میں استحکام مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، اس لیے حکومت کو ٹرانسپورٹرز اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔