نئے صوبے بنانے کا شوق ہے تو سندھ اسمبلی میں قرارداد لائیں:مراد علی شاہ
سندھ اسمبلی ماضی میں 6 مرتبہ نئے صوبوں کے قیام کے خلاف قراردادیں منظور کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دوبارہ قرارداد پیش کی گئی تو اس پر بھی فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
فائل فوٹو
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نئے صوبوں کے قیام کے مطالبے پر واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی کو نئے صوبے بنانے کا شوق ہے تو سندھ اسمبلی میں قرارداد پیش کی جائے، اسمبلی اس معاملے پر ایک بار پھر اپنا مؤقف سامنے رکھ سکتی ہے۔
سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ میں نئی سہولتوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ اسمبلی ماضی میں 6 مرتبہ نئے صوبوں کے قیام کے خلاف قراردادیں منظور کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دوبارہ قرارداد پیش کی گئی تو اس پر بھی فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے پمز اسپتال کے افسوسناک واقعے پر بھی اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی دلخراش واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
مراد علی شاہ نے بلدیاتی نظام کے حوالے سے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنانا اور ان کی استعداد کار میں اضافہ کرنا سندھ حکومت کے منشور کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق دیگر صوبوں کو بھی مقامی حکومتوں کے نظام کو مؤثر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کی نئی سہولتوں پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جدید انفراسٹرکچر کا قیام جانوروں کی صحت، تحقیق اور بیماریوں کی نگرانی کے نظام کیلئے اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جدید پالتو جانوروں کے اسپتال میں علاج، سرجری، انتہائی نگہداشت اور تشخیص کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، جہاں جانوروں کو عالمی معیار کے مطابق طبی خدمات فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
مراد علی شاہ کے مطابق ادارے میں نئے تشخیصی اور تحقیقی کمپلیکس کے تحت ڈیری، تجزیاتی اور پیراسائٹولوجی لیبارٹریز بھی قائم کی گئی ہیں۔ ان سہولتوں سے جانوروں کی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور روک تھام میں مدد ملے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جدید تشخیصی نظام کے ذریعے دودھ اور گوشت کے معیار کو بہتر بنانے اور غذائی تحفظ یقینی بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ انسٹیٹیوٹ آف اینیمل ہیلتھ کو ویٹرنری تعلیم، تحقیق اور تشخیص کا اہم مرکز بنایا جائے گا، جبکہ ویکسین کی تیاری اور تشخیصی لیبارٹریز کی استعداد مزید بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔