قومی اسمبلی نے پمز میں آتشزدگی کے واقعے کی خصوصی تحقیقات کی منظوری دیدی
واقعے کے ذمہ داروں کو نہیں چھوڑیں گے، میں نے جو کردیا ہے اس کے کوئی قریب بھی نہیں پہنچ سکتا، مصطفیٰ
وزیر صحت مصطفیٰ کمال سانحہ پمز پر قومی اسمبلی میں بات کر رہے ہیں
قومی اسمبلی نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی پمز کے مدر اینڈ چائلڈ اسپتال میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کیلئے ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی منظوری دیدی ہے۔
اس واقعے میں 14 نو مولود بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔ حکومت نے جاں بحق ہونے والے ہر ایک بچے کے لواحقین کیلئے 5 ملین روپے مالیاتی معاوضے کا اعلان بھی کیا ہے۔
قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے عزم ظاہر کیا کہ پمز اسپتال میں آگ لگنے کے واقعے میں 14 نو مولود بچوں کی اموات کے ذمہ دار کسی بھی ایک شخص کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس واقعے پر فوری جوابدہی اور کھلی پارلیمانی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ انتہائی بڑا ہے اور معصوم جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 14 بچوں کی اموات کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر وسیع پیمانے پر کام کیا ہے اور جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس کے قریب بھی کوئی نہیں آ سکتا۔ تحقیقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو بھی فیصلے کیے جائیں گے وہ شواہد کی بنیاد پر ہوں گے اور جو بھی ذمہ دار پایا گیا، اس میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔
انہوں نے سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں ایوانوں پر مشتمل مشترکہ پارلیمانی لائحہ عمل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے۔ انہوں نے پارلیمانی تحقیقات کیلئے کوئی آخری تاریخ مقرر کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کو وقت کی پابندی میں نہ جکڑا جائے۔
وفاقی وزیر نے اس بحث کو پمز کے واقعے سے آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ صرف 14 بچے نہیں ہیں بلکہ ہر سال ایک سے 5 سال کی عمر کے 4 ہزار بچے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب تک ہم بات کر رہے ہیں اس دوران بھی ایک ہزار 300 بچے جان کی بازی ہار چکے ہوں گے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت کمیٹی کی طرف سے مانگی جانے والی تمام معلومات فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آپ 14 ماہ کے اندر جو بھی پوچھیں گے، ہم فراہم کرنے اور بتانے کیلئے تیار ہیں۔
استعفے کے مطالبات کا جواب دیتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ انہوں نے وہ کام اس وقت کر دیا تھا جب لوگوں نے اس بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔ انہوں نے اپوزیشن اکانین سے بھی اپیل کی کہ وہ پارلیمانی عمل میں بھرپور حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے میری درخواست ہے کہ آپ کی ناراضی اپنی جگہ درست، مگر آپ کمیٹیوں میں آئیں، آپ کو پارلیمانی نگرانی حاصل ہے، اس پہلو کو بھی دیکھیں اور اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں الگ الگ کمیٹیوں کے قیام سے تحقیقات کی افادیت کم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ پارلیمنٹ ایک ہی ہے اور اگر 2 کمیٹیوں نے الگ الگ کام کیا تو اکثر معاملات کو یکساں زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے ایک خصوصی کمیٹی کے قیام کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ساخت میں ردوبدل کی گنجائش رکھی جانی چاہیے اور اسپیکر کو یہ اختیار دیا جانا چاہیے کہ وہ اس کی تشکیل میں تبدیلی کر سکے۔