پنجاب میں ڈیجیٹل تعلیم کا نیا دور،اے آئی مضمون لازمی کرنے کا فیصلہ
مصنوعی ذہانت کی تعلیم کے ذریعے طلبہ کو اس ٹیکنالوجی کے بنیادی تصورات، عملی استعمال اور روزمرہ زندگی میں اس کے ممکنہ کردار سے آگاہ کیا جائے گا۔
فائل فوٹو
لاہور: حکومت پنجاب نے صوبے کے سرکاری اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانا اور انہیں مستقبل میں بدلتی ہوئی تعلیمی اور پیشہ ورانہ ضروریات کے لیے تیار کرنا ہے۔
حکومت کے مطابق مصنوعی ذہانت کی تعلیم کے ذریعے طلبہ کو اس ٹیکنالوجی کے بنیادی تصورات، عملی استعمال اور روزمرہ زندگی میں اس کے ممکنہ کردار سے آگاہ کیا جائے گا۔
نئے تعلیمی اقدام کے تحت طلبہ میں ٹیکنالوجی سے متعلق بنیادی مہارتوں کے ساتھ تنقیدی سوچ، مسائل حل کرنے کی صلاحیت اور جدید طریقوں سے سیکھنے کی صلاحیت کو بھی فروغ دینے پر توجہ دی جائے گی۔
حکومت پنجاب کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کی بہتری کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں کمپیوٹر لیبارٹریز کو جدید بنانے اور ضروری آلات و سہولتیں فراہم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
مصنوعی ذہانت کے مضمون کی تدریس کے لیے اساتذہ کی تربیت کا بھی انتظام کیا جائے گا تاکہ وہ طلبہ کو اس ٹیکنالوجی کے بنیادی اصول اور مختلف شعبوں میں اس کے استعمال کے حوالے سے مؤثر انداز میں تعلیم دے سکیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کا بنیادی مقصد نئی نسل کو مستقبل کی ملازمتوں اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کے لیے تیار کرنا ہے۔
اس اقدام سے صوبے میں جدید تعلیم کے فروغ، طلبہ کی ڈیجیٹل مہارتوں میں اضافے اور انہیں مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوششوں کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔