پمز سانحہ پر سینٹ کمیٹی صحت میں ریگولیٹری اتھارٹی سے سخت سوالات

واقعے کی مکمل ویڈیو پیش کرنے کا مطالبہ

August 31, 2026 · امت خاص

فائل فوٹو

 

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی صحت کے اجلاس میں سانحہ پمز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں تحقیقاتی رپورٹ، آتشزدگی کی وجوہات، سی سی ٹی وی فوٹیج، ہسپتال انتظامیہ اور اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے کردار پر ارکان نے سخت سوالات اٹھائے۔کمیٹی ارکان نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل ویڈیو پیش کی جائے۔ سینیٹر مسرور احسن نے کہا کہ صرف مختصر ویڈیو سے حقیقت واضح نہیں ہوسکتی، مکمل دو منٹ کی فوٹیج سامنے لائی جائے تو بہت سے سوالات کے جواب مل سکتے ہیں۔

اجلاس کے آغاز میں پمز آتشزدگی سے جاں بحق بچوں کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین سے اظہارِ ہمدردی بھی کیا گیا۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر چار رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی تھی، جسے 48 گھنٹے میں ابتدائی رپورٹ پیش کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔ کمیٹی نے اسٹاف، عینی شاہدین اور دیگر متعلقہ افراد کے بیانات قلمبند کیے ، خام ویڈیو بھی حاصل کی گئی۔مصطفیٰ کمال کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ صبح 6 بج کر 38 منٹ پر واضح طور پر نظر آئی اور تقریباً 120 سیکنڈ میں نرسری دھویں سے بھر گئی۔ تاہم رپورٹ میں آگ لگنے کی حتمی وجہ ابھی طے نہیں کی گئی اور اس کے لیے فرانزک و آلات کی تکنیکی جانچ ضروری قرار دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ انکیوبیٹر، اے سی اور وائرنگ سمیت مختلف امکانات زیرِ غور ہیں۔ رپورٹ میں چارج نرس نسرین اختر کی جانب سے اے سی سے آگ کے آغاز کی اطلاع کا بھی ذکر ہے۔

اجلاس میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ 6 جولائی کوپمز کے نرسنگ ہاسٹل کے سٹنگ ایریا میں بھی آتشزدگی ہوئی تھی۔ مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ اس واقعے سے وزارت صحت کو بروقت آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق بعد ازاں اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ہسپتال کی سطح پر داخلی کمیٹی بھی بنائی گئی۔

سینیٹر مسرور احسن نے پمز انتظامیہ کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر پہلے بھی آتشزدگی کا واقعہ ہوچکا تھا تو حفاظتی انتظامات مزید مؤثر کیوں نہیں کیے گئے۔ انہوں نے پمز کے گزشتہ تین سے چار سال کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اجلاس میں اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی بھی زیرِ بحث آئی۔ کمیٹی ارکان نے اتھارٹی کی سی ای او سے پمز کے آخری انسپیکشن کی تاریخ دریافت کی، تاہم وہ حتمی تاریخ بتانے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ ارکان نے سوال اٹھایا کہ اگر ریگولیٹری اتھارٹی کا بنیادی کام ہی انسپیکشن ہے تو پمز کا مؤثر معائنہ کیوں نہیں کیا گیا۔کمیٹی ارکان نے اتھارٹی کے سربراہ کی تقرری اور ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ پر بھی سوالات اٹھائے۔

وفاقی وزیر صحت نے پمز کے موجودہ انتظامی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک افسر کو ہٹا کر دوسرے کو تعینات کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، پمز کو ریڈیکل اور نظامی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ہسپتال کو بااختیار بورڈ کے تحت چلانے، مارکیٹ ریٹ پر چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری اور ملازمین کی کارکردگی کو ملازمت سے مشروط کرنے کی تجاویز دیں۔

مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ پورے پالستان کا سالانہ صحت بجٹ تقریباً 1156 ارب روپے ہے، لیکن اس کے باوجود عوام کو مطلوبہ صحت سہولیات نہیں مل رہیں۔ ان
کے مطابق یونیورسل ہیلتھ کوریج کے لیے موجودہ اخراجات کے مقابلے میں کہیں کم رقم درکار ہوسکتی ہے اور صحت کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کے بجائے مؤثر سروس ڈلیوری پر توجہ دینی چاہیے۔

کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ پمز سانحہ صرف ایک ہسپتال کا مسئلہ نہیں بلکہ صحت اور انسانی حقوق سے متعلق وسیع تر معاملہ ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر صحت سے پورے پالستان کے لیے جامع قومی ہیلتھ پالیسی تشکیل دینے کی سفارش بھی کی۔