اسلام آباد میں فائرسیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر 8 عمارات سیل اور بھاری جرمانے
کیپیٹل ہسپتال، پولی کلینک اور پمز پر 5،5 لاکھ روپے جرمانہ
فائل فوٹو
وفاقی حکومت کی ہدایات پر سی ڈی اے نے اسلام آباد میں فائر سیفٹی قوانین پر سخت ایکشن لیتے ہوئے 8 عمارتیں سیل کردیں۔
شہیدِ ملت سیکرٹریٹ، اسٹیٹ لائف بلڈنگ، ٹی ڈی اے پی بلڈنگ، بیورلے سینٹر، این آئی سی بلڈنگ، کراؤن پلازا، خدادا ہائٹس پلازا اور انوائے کنٹیننٹل ہوٹل کو فائر سیفٹی عدم تعمیل پر سیل کردیا گیا۔
فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر کیپیٹل ہسپتال، پولی کلینک اور پمز پر 5،5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
اسلام آباد بھر میں فائر سیفٹی معائنوں کا دائرہ وسیع کردیا گیا، فائر فائٹنگ آلات، ایمرجنسی ایگزٹس اور انخلا کے انتظامات کی جانچ جاری ہے۔
سی ڈی اے نے عمارت مالکان اور انتظامیہ کو فائر سیفٹی انتظامات فوری مکمل کرنے کی ہدایت کردی، مسلسل عدم تعمیل پر سخت قانونی کارروائی ہوگی۔
سیل کی گئی 8 عمارتوں میں شہیدِ ملت سیکرٹریٹ،اسٹیٹ لائف بلڈنگ،ٹی ڈی اے پی بلڈنگ، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان،بیورلے سینٹر،این آئی سی بلڈنگ،کراؤن پلازا،
خدادا ہائٹس پلازا،انوائے کنٹیننٹل ہوٹل شامل ہیں۔
سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول سیکشن کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ معائنوں کے دوران نشاندہی کی گئی خامیوں کو مقررہ مدت میں دور کروانے کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے۔
عمارات کو سیل کرنے کی کارروائی اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ سی ڈی اے کی فائر سیفٹی مہم محض معائنوں تک محدود نہیں بلکہ قابلِ تلافی انسانی جانوں کے ضیاع اور املاک کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے ایک عملی اور مؤثر انفورسمنٹ مہم ہے۔ لازمی حفاظتی تقاضوں پر عملدرآمد نہ کرنے والی عمارات کے خلاف مروجہ قوانین اور قواعد و ضوابط کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
چیئرمین سی ڈی اے سہیل اشرف نے متعلقہ شعبہ جات کو مزید ہدایت کی ہے کہ فائر سیفٹی کے تقاضوں پر عملدرآمد کی مسلسل نگرانی کی جائے اور معائنوں کے دوران سامنے آنے والی خامیوں کو مؤثر اصلاحی اقدامات کے ذریعے دور کروایا جائے۔ اس اقدام کا مقصد پورے اسلام آباد میں حفاظتی اقدامات، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری، ذمہ داری اور احتیاط کے مضبوط کلچر کو فروغ دینا ہے۔
سی ڈی اے نے تمام سرکاری محکموں، پبلک سیکٹر اداروں، تجارتی مراکز، نجی عمارات کے مالکان اور انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے فائر سیفٹی انتظامات کا فوری جائزہ لیتے ہوئے مقررہ حفاظتی معیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔