آنکھوں کی روشنی واپس آسکتی ہے ۔بینائی بحال کرنے کے آئی ڈراپس کا تجربہ کامیاب

مزید تحقیق کا سلسلہ جاری ہے، سائنس ڈیلی کی رپورٹ

September 1, 2026 · امت خاص, ہیلتھ
آنکھوں کی روشنی واپس آسکتی ہے ۔بینائی بحال کرنے کے آئی ڈراپس کا تجربہ کامیاب

آنکھوں کی روشنی واپس آسکتی ہے ۔بینائی بحال کرنے کے آئی ڈراپس کا تجربہ کامیاب

 

ماہرین نے تجرباتی آئی ڈراپس کے ذریعے اندھے چوہوں کی بینائی واپس لانے میں اہم کامیابی حاصل کرلی۔سائنسدانوں نے روشنی سے متحرک ہونے والی ایسی ادویات تیار کی ہیں جنہوں نے اندھے پن کا شکار جانوروں میں بصارت کی بنیادی صلاحیتوں کو بحال کیا ہے، جس سے عمر سے متعلقہ بصارت کے مسائل میں مبتلا لوگوں کی مدد کے لیے ایک آسان طریقہ کار کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

’’سائنس ڈیلی‘‘ کی رپورٹ کے مطابق محققین نے تجرباتی آئی ڈراپس کے استعمال سے اندھے چوہوں کی بینائی کو بحال کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اس ابتدائی طبی پیش رفت کو بصارت بحال کرنے کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا ہیں اور مستقبل میں انسانوں کے لیے بھی ایسے علاج کی راہ ہموار ہوگی جو بینائی سے محروم ہیں۔ اس ضمن میں مزید تحقیق کا سلسلہ جاری ہے تاکہ اس طریقہ علاج کو مزید محفوظ اور موثر بنایا جا سکے۔

بصری خلیات (Photoreceptors) کا ناکارہ ہونا اندھے پن کی کئی بڑی وجوہات کے پیچھے کارفرما ہے، جن میں عمر سے متعلقہ میکولر ڈیجنریشن اور ریٹینائٹس پگمنٹوسا شامل ہیں۔ان بیماریوں میں، پردہِ چشم (Retina) کے بصری خلیات، جو آنے والی روشنی کو محسوس کرتے ہیں، بتدریج کمزور ہو کر ختم ہو جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، ریٹینا کے اندر گہرائی میں موجود اعصابی نظام (Neural Circuitry) کا ایک بڑا حصہ سلامت اور کام کرنے کے قابل رہ سکتا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ بصری خلیات کے بغیر، یہ زندہ بچ جانے والے خلیات روشنی کے وہ سگنل حاصل نہیں کر پاتے جو دماغ کی طرف بصری معلومات بھیجنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ریٹینا کا یہی باقی ماندہ اعصابی نظام ان سائنسدانوں کے لیے ایک اہم ہدف بن گیا ہے جو روشنی کی حساسیت کوبحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انسیٹیوٹ فار بائیو انجینئرنگ آف کیٹالونیا (IBEC) کی زیرِ قیادت ایک تحقیقاتی کنسورشیم نے روشنی سے تبدیل ہونے والی (photoswitchable) چھوٹی مالیکیولر ادویات کا ایک نیازمرہ تیار کیا ہے، جسے اندھے پن کے شکار جانوروں میں بصارت کے اہم افعال کو بحال کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ نتائج جرنل آف دی امریکن کیمیکل سوسائٹی (JACS) میں شائع ہوئے ہیں۔

یہ مرکبات بصری خلیات (photoreceptors) کے ذریعے عام طور پر انجام دیے جانے والے کام کا کچھ حصہ سنبھالنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ انہیں آنکھ میں انجکشن کے ذریعے دیا جا سکتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے دیگر امراضِ چشم کی ادویات دی جاتی ہیں، یا انہیں آئی ڈراپس (آنکھ کے قطروں) کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دونوں میں سے کسی بھی طریقے کے لیے جینیاتی تبدیلی (genetic modification) یا کسی امپلانٹڈ آلے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان مرکبات نے بہترین حفاظتی پروفائلز بھی دکھائے ہیں، جس سے یہ بصارت کی بحالی کے لیے مستقبل میں علاج کے ممکنہ ذرائع بن گئے ہیں۔

تحقیق کے شریک سربراہ پاو گوروسٹیزانے بتایاکہ یہ مالیکیولز اندھے پن کا علاج نہیں کرتے، کیونکہ یہ بصری خلیات کے ناکارہ ہونے کی اصل وجہ کو ختم نہیں کرتے۔ لیکن یہ بینائی بحال کرنے میں حیرت انگیز طور پر مؤثر ہیں، اور یہ کام وہ ایک بہت ہی سادہ اور مریض کے لیے سازگار طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے کرتے ہیں۔