9 مئی اور 26 نومبر کی روش دوبارہ اپنائی تو نقصان پی ٹی آئی کا ہوگا:افنان اللہ

ملاقاتوں سے متعلق تحریک انصاف کے مطالبات پر عملدرآمد کیا جاچکا ہے، اس لیے اب اسلام آباد آنے کی دھمکیوں یا احتجاجی بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔

September 1, 2026 · امت خاص
9 مئی اور 26 نومبر کی روش دوبارہ اپنائی تو نقصان پی ٹی آئی کا ہوگا:افنان اللہ

9 مئی اور 26 نومبر کی روش دوبارہ اپنائی تو نقصان پی ٹی آئی کا ہوگا:افنان اللہ

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے سینیٹر افنان اللہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں سے متعلق تحریک انصاف کے مطالبات پر عملدرآمد کیا جاچکا ہے، اس لیے اب اسلام آباد آنے کی دھمکیوں یا احتجاجی بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔

اُمت ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے افنان اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کا مطالبہ کیا گیا تھا اور اب ان کی بہن کی ملاقاتیں بھی ہوچکی ہیں، جبکہ اہلیہ کی ملاقات بھی باقاعدگی سے ہورہی ہے۔

لیگی سینیٹر نے کہا کہ جب ملاقاتوں سے متعلق مطالبہ پورا کردیا گیا ہے تو اس کے بعد اسلام آباد آنے کی بات کرنا مزید مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق بہتر راستہ یہی ہے کہ حکومت سے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کیے جائیں اور نظام میں غیر ضروری تناؤ پیدا نہ کیا جائے۔

افنان اللہ نے پی ٹی آئی کی جانب سے بڑے عوامی اجتماع کے دعووں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر جماعت واقعی لاکھوں افراد کو اسلام آباد لانے کی صلاحیت رکھتی ہے تو عملی طور پر اس کا مظاہرہ بھی ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں لوگ اسلام آباد پہنچ جائیں تو شہر کی صورتحال شدید متاثر ہوسکتی ہے، تاہم ان کے بقول پی ٹی آئی کی جانب سے ایسی باتیں زیادہ تر سیاسی دباؤ پیدا کرنے کے لیے کی جارہی ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت مستحکم ہے اور اگر کسی جانب سے امن و امان خراب کرنے یا شرپسندی کی کوشش کی گئی تو حکومت اسے کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

انہوں نے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پی ٹی آئی دوبارہ اسی طرز کی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اس کے نتائج خود جماعت کے لیے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔

افنان اللہ نے تحریک انصاف پر زور دیا کہ احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے اور سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔