سانحہ پمز پر وزارتِ صحت اور ہیلتھ اتھارٹی میں اختلافات،7 ارکان مستعفی

مستعفی ہونے والے ارکان نے اپنے استعفے وزارتِ صحت کو بھجوا دیے ہیں،ذرائع

September 1, 2026 · قومی
سانحہ پمز پر وزارتِ صحت اور ہیلتھ اتھارٹی میں اختلافات،7 ارکان مستعفی

سانحہ پمز پر وزارتِ صحت اور ہیلتھ اتھارٹی میں اختلافات،7 ارکان مستعفی

اسلام آباد: (افضل شاہ یوسفزئی) سانحہ پمز کے معاملے پر وزارتِ صحت اور اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے، گزشتہ چار روز کے دوران اتھارٹی بورڈ کے مزید 6 ارکان کے استعفوں کے بعد 9 رکنی بورڈ کے 7 ارکان مستعفی ہو چکے ہیں
ذرائع کے مطابق مستعفی ہونے والے ارکان نے اپنے استعفے وزارتِ صحت کو بھجوا دیے ہیں، جبکہ بورڈ ارکان نے چیئرپرسن ڈاکٹر ریاض شہباز جنجوعہ کے استعفے کے بعد احتجاجاً عہدے چھوڑنے کا فیصلہ کیا
ذرائع کے مطابق مستعفی ہونے والے ارکان میں پروفیسر نعیم ملک، ڈاکٹر مطیع الرحمن، ریٹائرڈ کرنل ڈاکٹر عارف مقصود، کاشف ظہور اور اسما خلیل شامل ہیں۔ چیئرپرسن ڈاکٹر ریاض شہباز جنجوعہ 28 اگست کو عہدے سے مستعفی ہوئے تھے
ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ ارکان وزارتِ صحت کی جانب سے اتھارٹی پر بڑھتے ہوئے انتظامی کنٹرول کے بھی مخالف تھے۔ سانحہ پمز کے بعد اسلام آباد ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کو ہونے والی تنقید پر بھی بورڈ ارکان میں تشویش پائی جاتی تھی

سانحہ پمز پر وزارتِ صحت اور ہیلتھ اتھارٹی میں اختلافات،7 ارکان مستعفی
سانحہ پمز پر وزارتِ صحت اور ہیلتھ اتھارٹی میں اختلافات،7 ارکان مستعفی

 

ذرائع کے مطابق آئی ایچ آر اے کو سانحہ پمز سے جوڑنا بلاجواز ہے، کیونکہ متعلقہ قانون کے تحت اتھارٹی کو پمز سمیت وفاقی سرکاری اسپتالوں کی براہِ راست انسپکشن کا اختیار حاصل نہیں۔ اسلام آباد کے سرکاری اسپتال وزارتِ قومی صحت کے ماتحت ہیں جبکہ ان اسپتالوں کی انسپکشن بھی وزارتِ صحت کی اجازت سے مشروط ہے
ذرائع کے مطابق بورڈ ارکان کا مؤقف تھا کہ جن امور پر اتھارٹی کو قانونی اختیار ہی حاصل نہیں، ان کی ذمہ داری بھی آئی ایچ آر اے پر عائد نہیں کی جا سکتی
واضح رہے کہ گزشتہ چار روز کے دوران آئی ایچ آر اے بورڈ کے 6 ارکان کے استعفے سامنے آئے ہیں، جس کے بعد 9 رکنی بورڈ میں صرف 2 ارکان کے عہدوں پر برقرار رہنے کی اطلاعات ہیں۔ صورتحال کے باعث اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کی آئندہ فعالیت اور بورڈ کی تشکیل نو کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔