لاہور میں روکنے کےدوران نوجوان کی موت،کارروائی نہ کرنےکی یقین دہانی پرلاش واپس ملی

متوفی زین کی نماز جنازہ لاہور کے علاقے ساندہ میں ادا- ٹریفک وارڈن کو معطل کردیا گیا

September 2, 2026 · قومی

لاہور میں ٹریفک اہلکار کے ساتھ ٹکرا کر جاں بحق ہونے والے زین ی تصویر، دوسری جانب میت گھر پہنچنے پر لوگ جمع ہیں

لاہور میں اچانک سڑک پر آکر تیز رفتار بائیک والے کو روکنے اور حادثے میں نوجوان کی ہلاکت پر ٹریفک پولیس حکام نے نوجوان کی لاش روک لی اور اہل خانہ کو دستخط لینے کے بعد میت اس شرط پر واپس دینے کا انکشاف ہوا ہے کہ وہ کوئی قانونی کارروائی نہیں کریں گے۔

26 اگست کی شام زین شادمان مارکیٹ سے گزرا۔ ایک ٹریفک وارڈن کی طرف سے اسے زبردستی روکنے کی کوشش کا نتیجہ یہ نکلا کہ نوجوان موٹرسائیکل سمیت گرگیا اور فٹ پاتھ سے ٹکرایا۔ اسے بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال منتقل کیاگیا لیکن سرپر چوٹ نے اس کی زندگی ختم کردی۔

اس حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجودہے۔

وارڈن کی رپورٹ پر مقدمہ درج کیاگیا۔ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق نوجوان نے ہیلمٹ نہیں پہن رکھا تھا وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا ،اس دوران حادثہ پیش آگیا۔

ہلاکت کے بعد پولیس نے نوجوان کی لاش ورثاکودینے کے لیے شرط رکھی کہ وہ لکھ کردیں غلطی زین کی تھی۔تاہم ، زین کے اہل خانہ نے متعلقہ تھانے میں درخواست دے دی ۔ان کا موقف ہے کہ وارڈن کے دھکادینے سے موٹر سائیکل فٹ پاتھ کے ساتھ جاٹکرایا۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی اصل صورتحال سی سی ٹی وی فوٹیج سے واضح ہوسکتی ہے۔انہوں نے وارڈن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ۔

زین کی والدہ نے کہا کہ پولیس نے میرے بچے کو مار دیا،ٹریفک اہل کار نے اس کا بازو پکڑا تھا،مجھے انصاف چاہیے۔انہوں نے بتایاکہ میرابیٹا یتیم تھا۔

فیملی ذرائع نے بتایا کہ زین کے ورثا سے کارروائی نہ کرنے کی شرط پر دستخط کرنے کے بعد لاش دی گئی ہے تاہم پولیس کی جانب سے اس الزام کی تردید کی جارہی ہے۔

حادثے میں ملوث ٹریفک پولیس اہلکار بھی زخمی اور زیر علاج ہے۔

اہل خانہ نے بتایا کہ زین کی نماز جنازہ بعد نماز عصر لاہور کے علاقے ساندہ میں ادا کی گئی۔ متوفی یر شادی شدہ اور پیشے کے اعتبار سے الیکڑیشن تھا۔

اُدھر سی ٹی او لاہور نے 30 سالہ زین کو سٹرک پر روکنے والے ٹریفک وارڈن سلطان الحق غفلت اور لاپرواہی برتنے پر معطل کر دیا گیا۔