یاسین ملک کی بیٹی رضیہ سلطان کی طبیعت خراب،اسپتال منتقل

یاسین ملک 2019 سے بھارت کی تہاڑ جیل میں قید ہیں،بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہ ہونے کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے اپنے خلاف جاری مقدمہ مزید لڑنے سے انکار کردیا ہے۔

September 4, 2026 · قومی
فوٹو سوشل میڈیا ( ایکس)

فوٹو سوشل میڈیا ( ایکس)

کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی بیٹی رضیہ سلطان کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی، جس کے بعد انہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔

یاسین ملک 2019 سے بھارت کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ حالیہ پیش رفت میں انہوں نے بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہ ہونے کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے اپنے خلاف جاری مقدمہ مزید لڑنے سے انکار کردیا ہے۔

یاسین ملک نے گزشتہ روز سری نگر کی عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع کرایا، جس میں انہوں نے کہا کہ انہیں بھارتی عدالتی نظام سے انصاف کی امید نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالت انہیں سزائے موت بھی سناتی ہے تو وہ اسے کشمیر کے لیے قبول کریں گے، تاہم سزا قبول کرنے کا مطلب اپنے اوپر عائد الزامات کو تسلیم کرنا نہیں ہوگا۔

حلف نامے میں یاسین ملک نے 1990 کے سرلا بھٹ قتل کیس میں ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مبینہ طور پر ایک جے کے ایل ایف نوٹ کی بنیاد پر کیس میں شامل کیا گیا، جو ان کے مطابق بعد میں عدالتی ریکارڈ سے غائب ہوگیا۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سرلا بھٹ کے قتل سے کچھ دن قبل وہ شدید زخمی تھے، اس لیے قتل کی منصوبہ بندی یا اس حوالے سے ہدایات دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔

یاسین ملک کے مطابق بھارتی حکام کی جانب سے ماضی میں انہیں پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے کردار ادا کرنے کا کہا گیا، تاہم بعد میں انہی روابط کو ان کے خلاف ثبوت کے طور پر استعمال کیا گیا۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ 2019 اور 2024 کے بھارتی انتخابات کے دوران ان کے نام، تصویر اور عدالتی معاملات کو سیاسی بیانیے کے لیے استعمال کیا گیا۔ یاسین ملک کا کہنا تھا کہ سیاسی انتقام کے خلاف احتجاجاً انہوں نے مقدمہ مزید لڑنے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

اپنے حلف نامے میں یاسین ملک نے طویل قید، تنہائی اور اہل خانہ سے برسوں کی دوری کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے اپنی اہلیہ مشعال ملک اور بیٹی رضیہ سلطان سے جدائی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی اہلیہ کو طویل قید اور ممکنہ پھانسی کے انتظار کی زندگی سے آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔

یاسین ملک نے اپنی بیٹی کو اپنی دادی سے رابطے میں رہنے اور ان کے غم کو کم کرنے کی تلقین بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ اپنا مؤقف اور ضمیر کی آواز عدالت کے سامنے رکھ دی ہے، اب باقی فیصلہ اللہ پر چھوڑتے ہیں۔