شاہ فرمان پر سنگین الزامات،جنید اکبر کی مبینہ آڈیو سامنے آگئی
مبینہ آڈیو میں جنید اکبر کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ملاکنڈ کو سب سے کم ترقیاتی فنڈز ملے، جبکہ انہوں نے کبھی اپنے یا کسی رشتہ دار کے لیے کوئی مطالبہ نہیں کیا
فائل فوٹو
پشاور: پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر سے منسوب ایک مبینہ آڈیو سامنے آئی ہے، جس میں سابق گورنر خیبر پختونخوا اور پارٹی رہنما شاہ فرمان کے حوالے سے مختلف الزامات زیر بحث آتے ہیں۔
مبینہ آڈیو میں جنید اکبر کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ملاکنڈ کو سب سے کم ترقیاتی فنڈز ملے، جبکہ انہوں نے کبھی اپنے یا کسی رشتہ دار کے لیے کوئی مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی ٹرانسفر یا پوسٹنگ کے معاملات میں مداخلت کی۔
آڈیو میں شاہ فرمان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی کو پارٹی ٹکٹ دلوایا اور مبینہ طور پر ایک ٹھیکیدار کے ذریعے اپنے اخراجات چلاتے تھے۔ آڈیو میں سابق صوبائی وزیر شکیل خان کے حوالے سے بھی مالی معاملات سے متعلق دعوے کیے گئے ہیں۔
جنید اکبر سے منسوب گفتگو میں مبینہ طور پر یہ بھی کہا گیا کہ شاہ فرمان نے شکیل خان سے ایک ارب روپے لینے کی بات کی تھی، جس میں 50 کروڑ روپے ان کے لیے اور 50 کروڑ روپے شکیل خان کے لیے ہونے تھے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
دوسری جانب سابق گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے مبینہ آڈیو میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔
شاہ فرمان نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنید اکبر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی کوئی حیثیت نہیں اور انہیں پارٹی کی جانب سے جو ذمہ داری دی گئی ہے، انہیں اس پر توجہ دینی چاہیے۔
شاہ فرمان کا کہنا تھا کہ کسی پر کرپشن کے الزامات عائد کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں پارٹی کی احتساب کمیٹی کا رکن بنایا تھا۔
سابق گورنر نے مزید کہا کہ گورنر کی حیثیت سے انہوں نے سرکاری خزانے میں کروڑوں روپے جمع کرائے تھے۔
مبینہ آڈیو اور اس میں عائد الزامات کے حوالے سے حتمی حقائق کا تعین متعلقہ شواہد اور باضابطہ تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا۔