کسانوں نے احتجاجاً پیداوار کم کرنے کا اعلان کردیا، غذائی قلت کا خدشہ
گزشتہ تین سال سے کاشتکاروں کو اپنی فصل کی پیداواری لاگت بھی پوری نہیں مل رہی، جس کے باعث زراعت کا شعبہ مسلسل مشکلات کا شکار ہے
کسانوں نے احتجاجاً پیداوار کم کرنے کا اعلان کردیا، غذائی قلت کا خدشہ
پاکستان کسان اتحاد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم، آٹا اور چینی جیسے بنیادی غذائی اجناس کو سیاسی معاملات سے الگ رکھتے ہوئے ایسی پالیسی بنائی جائے جس میں کاشتکار اور صارف دونوں کے مفادات کا تحفظ ہو۔
کسان اتحاد کے صدر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین سال سے کاشتکاروں کو اپنی فصل کی پیداواری لاگت بھی پوری نہیں مل رہی، جس کے باعث زراعت کا شعبہ مسلسل مشکلات کا شکار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گندم کی پیداواری لاگت تقریباً 3 ہزار 500 روپے فی من بنتی ہے، جبکہ محکمہ زراعت سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے تخمینے کے مطابق یہ لاگت تقریباً 3 ہزار 800 روپے فی من ہے۔ ان کے مطابق کسانوں سے تقریباً 3 ہزار روپے فی من میں خریدی جانے والی گندم اب مارکیٹ میں 4 سے 5 ہزار روپے فی من تک فروخت ہورہی ہے۔
کسان اتحاد کے صدر نے حکومت پر زور دیا کہ کاشتکار اور صارفین کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے بروقت پالیسی مرتب کی جائے اور مناسب سپورٹ پرائس کا اعلان کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال برقرار رہی تو زرعی شعبے کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
گنے کی فصل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گنے کی کاشت شروع ہوچکی ہے اور محکمہ زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سیزن میں اس کی کاشت میں تقریباً 16 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے باوجود چینی کی قیمتوں میں کمی نہیں آئی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں تقریباً 12 لاکھ ٹن اضافی چینی موجود ہے، اس لیے حکومت کو آئندہ سیزن سے پہلے واضح پالیسی بنانا ہوگی، بصورت دیگر گنے کے کاشتکار کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے۔
کسان اتحاد کے صدر نے کہا کہ اگر حکومت زرعی شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنا چاہتی ہے تو یہ عمل صرف کاشتکار کی سطح تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ فصل کی خریداری سے لے کر ملوں میں تیار ہونے والی مصنوعات تک پورے نظام پر یکساں اصول لاگو کیے جائیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برس کے دوران کاشتکاروں کو مجموعی طور پر تقریباً 2 ہزار 200 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کم قیمت پر عوام کو روٹی فراہم کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے کاشتکار کو نقصان پہنچانا مستقل حل نہیں، بلکہ پیداواری اخراجات کم کرنا ضروری ہے۔
کسان اتحاد کے صدر نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود ہر سال تقریباً 10 سے 13 ارب ڈالر کی زرعی اجناس درآمد کرتا ہے، جو ملکی زرعی پالیسیوں پر سوال اٹھاتا ہے۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ کاشتکاروں کو اہم اسٹیک ہولڈر کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ان کے مطابق بڑھتے ہوئے پیداواری اخراجات نے کسانوں کی مالی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے اور کئی کاشتکار اپنے اثاثے فروخت کرکے بھی زراعت کے اخراجات پورے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کے باعث نئی نسل بھی زراعت کی جانب آنے سے گریز کررہی ہے، جو مستقبل میں ملک کی غذائی ضروریات کے لیے بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔
کسان اتحاد کے صدر نے بجلی کے بلوں میں مبینہ اوور بلنگ کا معاملہ بھی اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ صرف ضلع قصور میں تقریباً ساڑھے 3 ارب روپے کی اوور بلنگ کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زرعی ملک میں بنیادی غذائی اجناس کی درآمد کی نوبت آنا تشویشناک ہے اور اس کی بڑی وجوہات غلط پالیسیوں کے ساتھ ساتھ گندم، آٹے اور چینی کے حوالے سے غیر مؤثر حکومتی فیصلے ہیں۔
کسان اتحاد کے صدر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر سپورٹ پرائس کا اعلان کیا جائے اور زرعی شعبے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کاشتکاروں کو پیداواری لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب قیمت نہ دی گئی تو کسان فصلوں کی کاشت کم کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ملک کی غذائی ضروریات کے پیش نظر پاکستان دو سے تین فیصد بھی کم کاشت کا متحمل نہیں ہوسکتا، کیونکہ پہلے ہی زرعی پیداوار دباؤ کا شکار ہے۔ ان کے مطابق مزید کمی ملک کی فوڈ سیکیورٹی کے لیے سنگین چیلنج بن سکتی ہے۔
کسان اتحاد نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر کاشتکاروں کے مسائل کا حل نکالے تاکہ زراعت کا شعبہ، جو ملکی غذائی تحفظ کی بنیاد ہے، مزید بحران سے بچ سکے۔