ملکی معیشت میں استحکام کےدعووں کے باوجودبڑی آبادی مالی مشکلات سے دوچار،سروے

صارفین کا اعتماد 24.4 فیصد کمی سے 65.3 فیصد، مہنگائی اور بے روزگاری بڑے مسائل

September 4, 2026 · قومی

فائل فوٹو

معیشت میں استحکام کے دعووں کے باوجود پاکستان کی بڑی آبادی مالی مشکلات سے دوچار ہے، رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں صارفین کے اعتماد کا اشاریہ گزشتہ سہ ماہی کے 86.4 فیصد کے مقابلے میں 24.4 فیصد کمی کے ساتھ 65.3 فیصد پر آگیا۔

ڈن اینڈ بریڈ اسٹریٹ پاکستان اور گیلپ پاکستان نے مالی سال 2026ء کی تیسری سہ ماہی کے لیے صارفین کے اعتماد کے اشاریے کا 20واں ایڈیشن جاری کردیا، جس میں صارفین کے اعتماد میں نمایاں کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں صارفین کے موجودہ جذبات اور معیشت کے مستقبل کے بارے میں ان کی توقعات کا دو طرفہ جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ موجودہ جذبات کا اشاریہ کم ہوکر 51.8 فیصد رہ گیا ۔ مستقبل کے معاشی منظرنامے سے متعلق توقعات نسبتاً بہتر رہیں اور ان کی شرح 78.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، تاہم دونوں اشاریے گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں کم رہے۔

صارفین کے اعتماد کا اشاریہ معیشت اور ذاتی مالی حالات کے بارے میں عوامی تاثر کو چار بنیادی عوامل کی بنیاد پر جانچتا ہے، جن میں گھریلو مالی صورتحال، قومی معاشی حالات، بے روزگاری اور بچت شامل ہیں۔

مالی سال 2026ء کی تیسری سہ ماہی کے لیے کیے گئے سروے کے مطابق مہنگائی بدستور سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ 89.3 فیصد جواب دہندگان نے بتایا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

سروے میں 1,592 افراد نے حصہ لیا۔ بے روزگاری بھی مالی دباؤ کی ایک بڑی وجہ بن کر سامنے آئی، کیونکہ 81 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران بے روزگاری کی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔

گھریلو مالی حالات کے حوالے سے بھی صورتحال زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہی۔ تقریباً 40 فیصد جواب دہندگان نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ چھ ماہ کے دوران ان کے ذاتی مالی حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔

گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال گیلانی نے کہا کہ 2026ء کی تیسری سہ ماہی میں 65.3 فیصد کا اشاریہ پاکستان کو واضح طور پر انتہائی مایوسی کے زمرے میں لے آتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ایک ہی سائیکل کے دوران اعتماد میں یہ سب سے بڑی کمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ یہ صرف مستقبل کے بارے میں خدشات کا بحران نہیں، موجودہ جذبات کا اشاریہ 51.8 فیصد تک گرچکا ہے، جس کا مطلب ہے کہ لوگ صرف مستقبل کے بارے میں پریشان نہیں بلکہ آج بھی مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مایوسی تمام عمر کے گروپس میں یکساں نہیں تھی۔ 50 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کے اعتماد میں سب سے زیادہ 30.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ 30 سال سے کم عمر افراد کے اعتماد میں نسبتاً کم کمی ہوئی، تاہم وہ بھی گزشتہ سروے کے مقابلے میں خاصے کم پُرامید نظر آئے۔

ڈن اینڈ بریڈ اسٹریٹ پاکستان کے چیف بزنس آفیسر زبیر قریشی نے کہا کہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صارفین اس وقت حقیقی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ صارفین کا اعتماد خود بخود بحال نہیں ہوگا، اس کے لیے دونوں محاذوں پر واضح بہتری درکار ہوگی، تب ہی عوام کے جذبات میں تبدیلی آئے گی۔

زبیر قریشی کے مطابق یہی وہ اہم اشارہ ہے جسے کاروباری اداروں اور پالیسی سازوں کو آنے والے مہینوں کے لیے خطرات کا جائزہ لینے اور اپنی حکمت عملی مرتب کرتے وقت مدنظر رکھنا چاہیے۔