بلال غوری کے جسمانی ریمانڈ میں 2 دن کی توسیع

تفتیشی ادارہ موبائل فون اور لیپ ٹاپ پہلے ہی قبضے میں لے چکا ہے، جبکہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک بھی رسائی موجود ہے،وکیل عمران شفیق

September 10, 2026 · قومی
فوٹو سوشل میڈیا

فوٹو سوشل میڈیا

صحافی اور ویلاگر بلال غوری کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران این سی سی آئی اے نے بلال غوری کے مزید 6 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔ بلال غوری کے وکیل عمران شفیق نے ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیشی ادارہ موبائل فون اور لیپ ٹاپ پہلے ہی قبضے میں لے چکا ہے، جبکہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک بھی رسائی موجود ہے، اس لیے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں۔

وکیل نے عدالت میں کہا کہ اگر بلال غوری کا بیان غلط ہے تو پہلے یہ ثابت کیا جائے کہ وہ کس بنیاد پر غلط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ بیان کے حوالے سے بلال غوری سے مناسب سوالات بھی نہیں کیے گئے۔

دورانِ سماعت بلال غوری نے کہا کہ ان کے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور تمام اکاؤنٹس تفتیشی ادارے کے پاس ہیں۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ان کے اکاؤنٹس پر ڈبل ویریفکیشن فعال ہے، جس کے باعث لاگ اِن میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

اس موقع پر بلال غوری نے طنزیہ انداز میں کہا، “یہی بچا ہے کہ میرے منہ سے زبان کھینچ لیں۔”

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے جسمانی ریمانڈ سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔ بعد ازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے بلال غوری کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 2 روز کی توسیع کردی۔

عدالت نے بلال غوری کو دوبارہ 12 ستمبر کو پیش کرنے کا حکم دیا۔