زندہ شہری کا بطور فوت شدہ اندراج سےمتعلق خبر پر نادرا کی وضاحت

رحیم یارخان کے علاقے صادق آبادمیں ایک شہری کو مردہ قراردیا گیا ہے

September 11, 2026 · امت خاص

فائل فوٹو

نیشنل ڈیٹابیس اینڈرجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)نے کہا ہے کہ شہری کے زندہ ہونے کا اندراج یونین کونسل میں درست ہونے کے بعد نادرامیں اپ ڈیٹ کیا جاسکتاہے۔

رحیم یارخان کے علاقے صادق آبادمیں ایک شہری کے حوالے سے’’ امت ڈیجیٹل‘‘ پر شائع شدہ خبر کی سوشل میڈیاپوسٹ پر نادرا کے فیس بک اکائونٹ نے کامنٹس میں ردعمل دیا۔

شائع شدہ خبر کے مطابق ،رحیم یار خان کے علاقے صادق آباد میں ایک شہری اس وقت حیران رہ گیا جب نادرا کے ریکارڈ میں اسے زندہ ہونے کے باوجود فوت شدہ قرار دیا گیا۔گاؤں لاکڑ والی، چک نمبر 5 این پی کے رہائشی فلک شیر اپنے بچوں کے ب فارم بنوانے کے لیے متعلقہ دفتر پہنچے، جہاں انہیں معلوم ہوا کہ نادرا کے ریکارڈ میں ان کا اسٹیٹس فوت شدہ درج ہے۔

مزید پڑھیں:بچوں کا ب فارم بنوانے گیا شہری نادرا ریکارڈ میں فوت شدہ نکلا

شہری کے مطابق اس معاملے کی تصدیق کے لیے جب وہ یونین کونسل گئے تو وہاں بھی ریکارڈ میں انہیں مردہ قرار دیا گیا۔ نادرا حکام کی جانب سے انہیں بتایا گیا کہ پہلے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت پیش کریں، اس کے بعد بچوں کے ب فارم سے متعلق کارروائی ممکن ہوگی۔

فلک شیر کا کہنا ہے کہ وہ مسئلہ حل کرانے کے لیے مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگا کر تھک چکے ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ ریکارڈ میں خود کو زندہ کیسے ثابت کریں۔
متاثرہ شہری نے شکوہ کیا کہ وہ حقیقت میں زندہ ہیں، مگر سرکاری ریکارڈ انہیں مردہ قرار دے رہا ہے، جس کے باعث وہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

نادرانے اس پر اپنا موقف دیتے ہوئےکہا ہے کہ زیرِ گردش پوسٹ کے حوالے سے وضاحت کی جاتی ہے کہ مذکورہ معاملہ نادرا کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتا۔ لہٰذا، متعلقہ درخواست گزار سے گزارش ہے کہ پہلے اپنا ریکارڈ متعلقہ یونین کونسل سے درست کرائیں۔ یونین کونسل میں ریکارڈ کی تصحیح کے بعد، کسی بھی قریبی نادرا رجسٹریشن سینٹر سے مقررہ پالیسی، قواعد و ضوابط کے مطابق اپنا ریکارڈ درست کرائیں۔