اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا،شرح سود11.50فیصدپر برقرار
مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار اور مالیاتی اشاریوں کے مطابق پالیسی ریٹ میں کسی تبدیلی کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا ہیڈ آفس جہاں مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا گیا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگلے دو ماہ کے لیے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال، مہنگائی کے رجحانات اور دیگر مالیاتی اشاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد شرح سود 11.50 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل مالیاتی منڈیوں اور معاشی ماہرین کی جانب سے یہ مضبوط امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ افراطِ زر کے دباؤ اور دہرے ہندسے تک بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر مرکزی بینک شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس تک کا مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ تاہم اسٹیٹ بینک نے گزشتہ پالیسی کی طرح اس بار بھی پالیسی ریٹ کو برقرار رکھنے کو ترجیح دی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعلامیے اور معاشی رپورٹس کے مطابق ملک میں مالیاتی توازن کو برقرار رکھنے اور افراطِ زر کو کنٹرول میں لانے کے لیے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے یہ فیصلے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معیشت کے موجودہ دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود کو برقرار رکھنا ایک متوازن قدم ہے۔