صدر مملکت نے انڈونیشین نیول چیف کو نشان امتیاز عطا کردیا

پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون، پیشہ ورانہ تربیت اور مشترکہ مشقوں پر اتفاق

September 14, 2026 · قومی

فائل فوٹو

اسلام آباد : صدر مملکت آصف علی زرداری نے انڈونیشین بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی کو دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان تعلقات کے فروغ کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں نشان امتیاز (ملٹری) سے نواز دیا۔

ایوان صدر میں اعزاز دینے کے حوالے سے خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، اراکین پارلیمنٹ اور سفارتی برادری کے ارکان نے شرکت کی۔

ایوان صدر کے میڈیا ونگ کے مطابق ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی نے صدر مملکت سے ملاقات بھی کی، جنہوں نے انہیں اعلیٰ اعزاز ملنے پر مبارکباد دی۔

اس موقع پر صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دیرپا اور برادرانہ تعلقات استوار ہیں۔ انہوں نے دونوں بحری افواج کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

صدر مملکت نے کہا کہ بلیو اکانومی اور سمندری شعبے کی باہمی ترقی میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، جسے بھرپور انداز میں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پاکستان نیوی کی جانب سے منعقدہ مشقوں میں انڈونیشیا کی بحریہ کی باقاعدہ شرکت کو بھی سراہا۔

انڈونیشیا کے سفیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) چندر ڈبلیو سوکوتجو ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی کے ہمراہ تھے۔

دریں اثنا، انڈونیشین نیول چیف کی جی ایچ کیو میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی اور دوطرفہ دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور پیشہ ورانہ تربیت و مشترکہ مشقوں میں تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

دونوں فریقین نے افواج کے درمیان موجودہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ بالخصوص پیشہ ورانہ تربیت، دفاعی اشتراک اور مشترکہ مشقوں کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔

آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے دفاع اور سلامتی کے شعبوں سمیت انڈونیشیا کے ساتھ دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے ان کی خدمات کا اعتراف کیا۔