مبارک زیب پر جرگہ فیصلے سے انحراف کا الزام : 18 ستمبر سے خار اور اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان
3 کروڑ 20 لاکھ کی ادائیگی اور وعدہ خلافی، مبارک زیب پر جرگہ کے فیصلے سے انحراف کا الزام
وزیراعظم کے مشیر برائے ضم اضلاع ایم این اے مبارک زیب کے پریس کانفرنس کر رہے ہیں
باجوڑ : وزیراعظم کے مشیر برائے ضم اضلاع ایم این اے مبارک زیب کے خاندان کا باہمی تنازع، 18 ستمبر سے دوبارہ دھرنے کا اعلان
ضلع باجوڑ میں سٹیٹ منسٹر و ایم این اے مبارک زیب خان کے خاندان کے باہمی تنازعے نے ایک بار پھر نیا رخ اختیار کر لیا۔ حاجی مانڑو نے الزام عائد کیا ہے کہ جرگے کے فیصلے اور کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، جس کے خلاف 18 ستمبر سے خار بازار چوک اور اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مطالبات کی منظوری تک احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔
حاجی مانڑو کے مطابق علاقائی مشران اور قومی سطح پر تشکیل دیے گئے جرگے کو فریقین نے مکمل واک اختیار دیا تھا اور جرگے کے فیصلے کو من و عن تسلیم کرنے کے لیے باقاعدہ اسٹامپ پیپر پر بھی اختیار جمع کرایا گیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ چار رکنی جرگے نے تمام دستیاب ثبوتوں، گواہان اور علاقائی رسم و رواج کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ صادر کیا، جس کے تحت میاں گان قوم کو 3 کروڑ 20 لاکھ روپے کی ادائیگی، باہمی اتفاق و اتحاد سے رہنے اور تنازعے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
حاجی مانڑو کا الزام ہے کہ ایم این اے مبارک زیب خان نے اپنے دستخط شدہ تصفیے اور جرگے کے فیصلے سے بعد ازاں مبینہ طور پر انحراف کیا، جبکہ انہیں اور ان کی برادری کو دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ ان کے بقول انہیں جیل میں بند کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں حاجی مانڑو نے الزام عائد کیا کہ ایم این اے مبارک زیب خان کے سیکرٹریز مبینہ طور پر خاندان کے افراد کے درمیان اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ تنازعہ خدانخواستہ خون ریزی یا خاندان کے مزید مالی مسائل کا باعث بنا تو اس کی ذمہ داری، ان کے مطابق، ایم این اے مبارک زیب خان اور ان کے سیکرٹریز پر عائد ہوگی۔
حاجی مانڑو نے واضح کیا کہ اگر جرگہ ممبران کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو 18 ستمبر سے خار بازار چوک اور اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنا شروع کیا جائے گا، جو مطالبات کی منظوری تک جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔