کراچی: سرجانی ٹاؤن میں گھر پر خونیں حملہ، ماں اور2 بچے جاں بحق

وزیر اعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیر داخلہ نے اندوہناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔

September 14, 2026 · اہم خبریں
سرجانی ٹاؤن میں گھر سے ماں اور بچوں کی لاشیں ملنے کے بعد پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔

سرجانی ٹاؤن میں گھر سے ماں اور بچوں کی لاشیں ملنے کے بعد پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔

کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن سیکٹر 7-D میں ایک دردناک واقعے کے دوران گھر سے ایک خاتون اور دو بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جبکہ ایک اور بچی زخمی حالت میں اسپتال منتقل کی گئی جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔

پولیس حکام کے مطابق تمام مقتولین کو تیز دھار آلے کے وار سے نشانہ بنایا گیا۔ پولیس ریکارڈ اور ابتدائی معلومات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 34 سالہ مہوش، ان کی 6 سالہ بیٹی حرا (یا حرہا) اور 5 سالہ بیٹا حنین شامل ہیں جبکہ 18 ماہ کی بچی اشمیرہ شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کی گئی تھی جو جانبر نہ ہو سکی۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والی خاتون تینوں بچوں کی والدہ تھی۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او سرجانی پولیس نفری کے ہمراہ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور لاشوں و زخمی بچی کو اسپتال منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا۔ پولیس کے مطابق قتل کے محرکات جاننے کے لیے واقعے کی مختلف زاویوں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

دریں اثنا، وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے اس لرزہ خیز واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ویسٹ سے فوری اور تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ جائے وقوعہ سے تمام ممکنہ شواہد اکٹھے کیے جائیں، واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں اور حقائق جلد از جلد سامنے لائے جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جاں بحق افراد کی شناخت اور موت کی وجوہات کے حوالے سے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں اور جرم میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے۔

دوسری جانب، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی سرجانی ٹاؤن کے اس تہرے قتل پر گہرے دکھ اور شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں اور خاتون کا اس بے دردی سے قتل انتہائی دردناک اور ناقابلِ برداشت ہے۔ وزیراعلیٰ نے پولیس کو ہدایت کی کہ زخمی بچی کو بہترین طبی امداد فراہم کی جائے اور اس سفاکانہ واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔