بحر احمر میں پھنسے پاکستانی تیل بردار جہاز پر حملہ جنگی اقدام سمجھا جائے گا، وفاقی وزیر پٹرولیم
سعودی پائپ لائن بند ہونے سے ملک میں ڈیزل کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے،نجی ٹی وی چینل سے گفتگو
فائل فوٹو
اسلام آباد: حکومت پاکستان نے خلیج فارس اور بحر احمر کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ایک سخت بیان میں خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب کے مشرق-مغرب پائپ لائن کے قریب بحر احمر میں پھنسے ہوئے خالی تیل بردار جہاز پر کسی بھی قسم کا حملہ ایک جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد حکومت ڈیزل کے تیزی سے کم ہوتے ہوئے ذخائر کے باعث اس جہاز کی منتقلی کے لیے تمام متبادل آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ حالات جو بھی ہوں، اس جہاز کو وہاں سے ہٹانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی حکام کی جانب سے فی الحال جہاز کو اسٹینڈ بائی پر رکھنے کی درخواست کی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی مشرق-مغرب پائپ لائن، جو آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے متبادل کے طور پر تیل برآمدات کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، حوثی حملوں کے بعد گزشتہ ہفتے بند کر دی گئی تھی اور اس کے آئندہ 6 ہفتوں تک بند رہنے کا خدشہ ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس پھنسے ہوئے جہاز کے معاملے پر پاکستان کے پاس یہ آپشنز موجود ہیں کہ یا تو پائپ لائن کے آپریشنز بحال ہونے تک اسے وہیں روکا جائے، یا عمان یا متحدہ عرب امارات کے راستے واپس لایا جائے، یا پھر لیبیا سے خام تیل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
وزیر پٹرولیم نے خبردار کیا کہ اگر خام تیل کی رسد میں تعطل آیا تو پاکستان کو فوری طور پر ڈیزل کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ ملک میں اس وقت صرف رواں اور آئندہ ماہ کے ہی ذخائر موجود ہیں۔ واضح رہے کہ حوثی گزشتہ 2 ہفتوں سے سعودی عرب پر تقریباً روزانہ کی بنیاد پر حملے کر رہے ہیں اور یمن کے مزید علاقوں پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ باب المندب آبنائے پر اپنی گرفت مضبوط کر چکے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے اور مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان پہلے ہی یہ واضح کردیا ہے کہ مملکت پر کسی بھی حملے کی صورت میں گزشتہ ماہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا سہ فریقی مکہ دفاعی معاہدہ فعال ہو سکتا ہے۔