سانحہ کوہاٹ میں دھماکے ایک سے زائد ہوئے،ذرائع کا دعویٰ۔مقابلے میں 6 دہشت گردہلاک، پولیس

ایک دہشت گرد مقابلے میں ہلاک

September 18, 2026 · قومی
کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز مسجد میں نماز جمعہ کے دوران دھماکہ، 15 شہید، عمارت تباہ

کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز مسجد میں نماز جمعہ کے دوران دھماکہ، 15 شہید، عمارت تباہ

کوہاٹ کی میں مسجد دھماکے  سے شہداء کی تعداد 20 سے تجاوز کرگئی، ان میں ایس پی ٹریفک اکبر شنواری، انسپکٹر ایف آر پی اشتیاق اور 5 سالہ نمازی بچہ بھی شامل ہیں، شہداء کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی نے اولڈ پولیس لائنز کے گیٹ کو نشانہ بنایا، جس کے بعد زور دار دھماکا ہوا۔ واقعے کے بعد فائرنگ کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جبکہ اسپیشل برانچ کی عمارت کے قریب بھی دھماکے کی اطلاع ملی۔

خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید کے مطابق حملہ فتنہ الخوارج سے وابستہ دہشت گردوں نے کیا، ایک دہشت گرد مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔

دھماکے کے نتیجے میں مسجد کی بیرونی دیوار منہدم ہوگئی اور جائے وقوعہ پر گہرا گڑھا پڑ گیا،قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔

پولیس ذرائع کے مطابق شہدا میں ایس پی ٹریفک اکبر شنواری اور انسپکٹر ایف آر پی اشتیاق بھی شامل ہیں، 5 سالہ نمازی بچہ بھی دھماکے میں شہید ہوگیا۔ شہدا کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے،سرچ آپریشن جاری ہے۔دریں اثنا،غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ، کوہاٹ کی مسجد کے باہر دھماکہ گاڑی میں نصب کیے گئے بم سے ہوا، اس کے بعد پانچ اور دھماکے بھی ہوئے جو موٹرسائیکلزکے ساتھ نصب تھے۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پرانی پولیس لائنز کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی جس کے بعد مسلح شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی جاری ہے۔

ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز سینٹرل پولیس آفس عبد السلام خالد نے بتایا کہ شدت پسندوں کا ہدف پولیس لائنز اور وہاں واقع مسجد تھی، اور جب واقعہ پیش آیا تو نمازِ جمعہ جاری تھی۔

آئی جی خیبر پختونخوا کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے بعد ایک خودکش حملہ آور نے سپیشل برانچ کے قریب خود کو دھماکے سے اُڑایا۔

ترجمان خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق پولیس لائنز مسجد میں دھماکے کے بعد سات مسلح دہشت گردوں نے پولیس لائنز میں دراندازی کی جس کے بعد پولیس اور سی ٹی ڈی نے حملہ آوروں کا بھرپور مقابلہ کیا۔

اُن کے بقول اب تک کی اطلاعات کے مطابق خودکش بمبار اور سنائپر سمیت چھ دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں اور کلیئرنس آپریشن آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے