اسلام آباد کو کنٹینرز سے بھر دیا گیا،باغی تو آپ خود بنا رہے ہیں،فضل الرحمٰن
جے یو آئی کے بغیر حکومت بنتی نہیں،بنے تو چلتی نہیں، میڈیا سے گفتگو
فائل فوٹو
اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ کچھ جماعتوں کی جانب سے احتجاج کے اعلان کے بعد اسلام آباد کو کنٹینرز سے بھر دیا گیا، ایسے رویوں سے ملک کے لیے باغی خود بنائے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ملک پر قرضوں کا دباؤ اور مہنگائی بڑھ گئی جبکہ عوام کی مشکلات کا مداوا نہیں کیا جارہا، عالمی قوتوں نے اسلامی دفاعی معاہدے پر کاری ضرب لگائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں حکومت کسی اور کی ہے جبکہ حکمرانوں کی پالیسیز کی وجہ سے قوم تشویش میں مبتلا ہے۔ ملک میں قرضوں کا دباؤ اور مہنگائی بڑھ گئی ہے جبکہ مہنگائی کے حوالے سے عوام کے دکھوں کا مداوا نہیں کیا جارہا کیونکہ حکمران اندھے ہو چکے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں میگا پراجیکٹ معطل ہیں جبکہ لوگ اپنا سرمایہ اب بیرون ملک منتقل کررہے ہیں۔ چین کا اعتماد آپ کھو چکے ہیں جبکہ ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آگئی ہے اور گھر میں آگ لگی ہوئی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ جے یو آئی کے بغیر حکومت بنتی نہیں اور بنے تو چلتی نہیں۔ پیپلزپارٹی حکومت سے الگ ہوتی ہے تو پھر یہ اقلیت کی حکومت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ابھی اپوزیشن اس صورتحال میں نہیں کہ تحریک عدم اعتماد لائے، ابھی اس حوالے سے کوئی سوچ نہیں اور نہ تحریک عدم اعتماد پر غور کیا گیا، تاہم تحریک عدم اعتماد آتی ہے تو ساتھ دیں گے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ پارلیمانی طرز حکومت کو مستحکم نہیں ہونے دیا جا رہا، معیشت اور مہنگائی سے ہم سب کو مسئلہ ہے۔
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ ہم بار بار کہتے رہے ہیں کہ دو صوبوں میں کوئی حکومتی رٹ نہیں، سندھ میں جائیں تو وہاں بھی اسٹریٹ کرائمز ہیں، بلوچستان جائیں تو وہاں دن دیہاڑے بینک لوٹے جاتے ہیں، کوئی نظام نہیں کہ بینکوں یا شہریوں کو تحفظ دے سکیں۔
انہوں نے کہا کہ کل ہمارے ایک سینیٹر کو ایئرپورٹ پر روک دیا گیا، وہ چین نہیں جاسکے، ہمارے صوبے میں وزرا کو روڈ پر روک دیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سے معاہدے کو آگے بڑھنا چاہیے اور معاہدے میں مصر اور ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبوں کے حقوق کی بات کی، صوبے کے وسائل کے مالک صوبے کے عوام ہیں، صوبوں کی جنگ آئین کے مطابق لڑیں گے۔