میر رضا کیس میں نیا موڑ، ڈاکٹر سمیعہ اور ڈاکٹر اسامہ کی مبینہ آڈیو لیک

اہم پیش رفت، مبینہ آڈیو سامنے آگئی، تحقیقاتی عمل میں ہلچل مچ گئی

September 22, 2026 · اہم خبریں

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ اور میڈیکو لیگل آفیسر (ایم ایل او) ڈاکٹر اسامہ کے درمیان ہونے والی مبینہ آڈیو گفتگو منظر عام پر آنے کے بعد میر رضا کیس نے ایک نیا موڑ اختیار کر لیا ہے۔ اس آڈیو نے پوسٹ مارٹم رپورٹس کی تیاری اور طبی عملے کی مبینہ اندرونی کہانی کو بے نقاب کرتے ہوئے تحقیقاتی عمل میں ہلچل مچا دی ہے۔

دستاویز اور دستیاب شواہد کے مطابق، سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی آڈیو ریکارڈنگ میں ڈاکٹر اسامہ مبینہ طور پر ڈاکٹر سمیعہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ “”بس ٹھیک ہے میڈم! مجھے یہ بتائیں کل کب آپ کے پاس آؤں تاکہ شیڈول کرلوں””۔ جس کے جواب میں ڈاکٹر سمیعہ کہتی ہیں کہ “”تم نکل جاؤ گے، اس (کیس) میں سے، فکر نہیں کرو بلکہ تم نکل گئے ہو اور یہ لڑائی میری ہے بس۔””۔ یہ مبینہ گفتگو میر رضا کے پوسٹ مارٹم اور اس کی ابتدائی طبی رپورٹ کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جس میں ڈاکٹر اسامہ نے پہلا پوسٹ مارٹم کیا تھا۔

یہ آڈیو لیک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جوڈیشل کمیشن اور تحقیقاتی ادارے پوسٹ مارٹم رپورٹس میں تضاد، ابتدائی خامیوں اور دباؤ کے عوامل کا جائزہ لے رہے ہیں۔ متعلقہ حکام کے مطابق، کمیشن اس آڈیو کو بطور اہم ثبوت شاملِ تفتیش کر سکتا ہے۔ آڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہم نوعیت کے مقدمات میں پوسٹ مارٹم رپورٹس اور ضابطے کی کارروائی کے دوران مبینہ طور پر باہمی مشاورت اور بچاؤ کے فارمولے طے کیے جاتے ہیں، جس سے اس پورے نظام کی شفافیت مشکوک ہوتی ہے۔

اس گفتگو کے سامنے آنے کے بعد ڈاکٹر سمیعہ اور ڈاکٹر اسامہ کے لیے کمیشن کے سامنے ان سوالات کے جواب دینا مزید مشکل ہو جائے گا کہ آیا رپورٹس پر اثر انداز ہونے کے لیے کوئی دباؤ تھا یا یہ کسی خاص مقصد کے تحت کیا گیا۔ دوسری جانب مقتول میر رضا کے اہل خانہ اور قانونی ٹیم کے لیے یہ آڈیو اس مؤقف کو تقویت دیتی ہے کہ ابتدائی مراحل میں شواہد اور میڈیکل رپورٹس کو مبینہ طور پر متنازع یا کمزور بنانے کی کوشش کی گئی تھی، جس سے مقدمے میں نامزد کرداروں کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔