پی ٹی آئی قیادت کا لانگ مارچ 5 سے 10 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا عندیہ
اہم مشاورتی اجلاس، حکومت سے مذاکرات کی تیاری، اپوزیشن رابطے تیز کرنے کا فیصلہ
پی ٹی آئی اجلاس اور سیاسی صورتحال سے متعلق نمائندہ تصویری عکاسی
تحریک انصاف کی قیادت کے اہم اجلاس میں اکثریتی ارکان نے لانگ مارچ کو 5 سے 10 اکتوبر تک ملتوی کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں بیرسٹر گوہر، سہیل آفریدی، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ اور جنید اکبر سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے، جہاں حکومت کی جانب سے راستے بند کرنے کے اقدام کو بوکھلاہٹ قرار دیتے ہوئے اسلام آباد کی بندش کو تحریک کی کامیابی سے تعبیر کیا گیا۔
اجلاس کے دوران محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کے کردار پر سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا، جبکہ ذرائع نے بتایا کہ پارٹی قیادت جے یو آئی (ف) اور پیپلزپارٹی سے رابطے میں ہے۔ پیپلزپارٹی کے حوالے سے بتایا گیا کہ وہ تاحال کھل کر بات نہیں کر رہے اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی وطن واپسی کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اجلاس میں 6 سے 10 اکتوبر کے درمیان اے پی سی بلانے کی تجویز بھی زیر غور آئی اور سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے پارٹی چیپٹرز کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے ایک بیان میں حکومت سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ محمود اچکزئی اور پی ٹی آئی قیادت بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن حکومت میں اس وقت مسائل ختم کرنے کی سوچ نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں عملاً پہلے ہی گورنر راج نافذ ہے۔ ادھر سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرا کے ملک کو بحرانوں سے نکالا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب حکومتی مشیر رانا ثنااللہ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک تحریک انصاف سے کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں کنٹینرز صرف حفاظتی اقدامات کے تحت رکھے گئے ہیں اور اسلام آباد پر کسی کو چڑھ دوڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔