سپر ایل نینو کی تباہ کاریوں سے فروری 2027 تک لاکھوں اموات کا انتباہ
عالمی درجہ حرارت میں اضافہ، 4 لاکھ سے زائد اموات کا خدشہ، نفاذ اور احتیاطی تدابیر پر زور۔
سپر ایل نینو کے باعث دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافے اور ممکنہ موسمیاتی تبدیلیوں کی نمائندہ تصویر
عالمی ماہرین اور سائنسدانوں کی ایک نئی رپورٹ میں سنسنی خیز انکشاف کیا گیا ہے کہ طاقتور اور شدت اختیار کرتے ہوئے سپر ایل نینو کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی سے فروری 2027 تک 4 لاکھ 51 ہزار سے زائد اضافی اموات کا اندیشہ ہے۔ ماحولیاتی رپورٹ کے مطابق سپر ایل نینو کے باعث عالمی زمینی درجہ حرارت معمول سے اوسطاً 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہے گا، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں انتہائی گرم دنوں کی تعداد میں 44 فیصد کا بڑا اضافہ متوقع ہے۔
تحقیق کے مطابق صرف ستمبر 2026 سے فروری 2027 کے 6 ماہ کے عرصے کے دوران ہی شدید گرمی کی وجہ سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خطرہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گرمی کی شدت سے سب سے زیادہ اموات نائجیریا میں متوقع ہیں جہاں 31,400 اضافی اموات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انڈونیشیا میں 19,300 اور سوڈان میں 17,600 افراد کی اضافی اموات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ بھارت میں گرمی کے باعث 15,800 اور امریکہ میں 3,500 اضافی اموات کا اندیشہ ہے۔
کلائمیٹ امپیکٹ لیب کی تحقیق کے مطابق ایل نینو بحرالکاہل کے مرکزی اور مشرقی حصے میں سمندری سطح کے پانی کے معمول سے زیادہ گرم ہونے کا موسمیاتی رجحان ہے، جو 2026 کے آخر میں اپنی شدت کے عروج تک پہنچ سکتا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس رجحان کے باعث عالمی سطح پر شدید خشک سالی، جنگلات میں بھیانک آگ اور تباہ کن سیلابوں کے خطرات میں بھی یکدم اضافہ ہوگا۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ پیش گوئی ماڈلنگ کا تخمینہ ہے اور ہیٹ ایکشن پلان، بروقت وارننگ، ٹھنڈا رکھنے کے انتظامات اور طبی سہولیات جیسے اقدامات کے ذریعے ان اموات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔