وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی گورنر خیبرپختونخوا سے اہم ملاقات، صوبے کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے آئینی کردار ادا کرنے پر اتفاق

سیاسی صورتحال پر غور، مذاکرات کا دروازہ بند کرنے کا عندیہ، نفاذ فوری ہوگا

October 4, 2026 · اہم خبریں
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کے دوران۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کے دوران۔

پشاور میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کے درمیان گورنر ہاؤس میں ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں صوبے کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے آئینی کردار ادا کرنے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔ ملاقات کے دوران چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی) اور آئی جی ایف سی بھی موجود تھے۔

سرکاری اعلامیے اور جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ملاقات میں صوبے کی مجموعی سیاسی و سکیورٹی صورتحال، امن و امان کے امور اور پی ٹی آئی کے متوقع لانگ مارچ پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر اتفاق کیا گیا کہ اگر صدر مملکت اور وزیراعظم ملک میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنا ضروری سمجھیں تو گورنر ہاؤس اپنا بھرپور آئینی کردار ادا کرے گا۔

اعلامیے میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں سرکاری ہیلی کاپٹر اور سرکاری وسائل کا استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور یہ عدالتی فیصلوں کی صریح خلاف ورزی ہوگی۔ ذرائع کے مطابق آئی جی خیبرپختونخوا نے وفاقی وزیر داخلہ کو صوبے کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کسی بھی غیر یقینی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کو مکمل طور پر الرٹ کر دیا گیا ہے، مختلف اضلاع سے پولیس اہلکاروں کو پولیس لائنز طلب کر لیا گیا ہے اور ہنگامی حالات کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔

قبل ازیں وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور صدر آصف علی زرداری سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں حکومت کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے کی جانے والی کاوشوں کا جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملک میں 9 مئی جیسے واقعات کو دوبارہ کسی صورت دہرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور لانگ مارچ کا آغاز ہوتے ہی مذاکرات کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم سمجھا جائے گا۔